سورة یونس - آیت 66

أَلَا إِنَّ لِلَّهِ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ ۗ وَمَا يَتَّبِعُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ شُرَكَاءَ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

سن لو! بے شک اللہ ہی کے لیے ہے جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے اور جو لوگ اللہ کے غیر کو پکارتے ہیں وہ کسی بھی قسم کے شریکوں کی پیروی نہیں کر رہے۔ وہ پیروی نہیں کرتے مگر گمان کی اور وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخالفوں کو خبر دار کرتے ہوئے ان کے عقیدہ کی قلعی کھولی جارہی ہے۔ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دشمنوں اور دین کے منکروں کو خبر دار کیا جارہا ہے کہ ہوش کے ناخن لو اور یہ غلط فہمی دماغ سے نکال دو کہ تم اللہ تعالیٰ کی گرفت اور دسترس سے باہر ہو۔ ایسا ہرگز نہیں۔ کیونکہ زمین و آسمانوں میں کوئی چیز نہیں جو اللہ تعالیٰ کی ملک نہ ہو اور اس کے اختیار سے باہر ہو۔ کان کھول کر سن لو کہ یہ سب کچھ اسی کا ہے اگر تمہیں قابو نہیں کیا جارہا تو اس میں اس کا یہ اصول کار فرما ہے کہ وہ ہر شخص کو ایک حد تک مہلت دیتا ہے۔ رہی یہ بات کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو پکارتے اور انہیں اللہ تعالیٰ کا شریک کار سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ کسی آسمانی کتاب اور عقل سلیم کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف من گھڑت اور محض گمان کی بنیاد پر ہے۔ عربی زبان میں ظن کا یہ معنی بھی ہے کہ ایسی سوچ اور بات جس کی کوئی ٹھوس بنیاد نہ ہو۔ شرک کی ٹھوس بنیاد نہیں ہوتی جس بنا پر ہر دور کا مشرک اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بتوں، مورتیوں کو خدا کے ہاں سفارشی اور خدا کی خدائی میں شریک سمجھتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آسمانی کتابوں پر ایمان لانے اور انبیاء کو تسلیم کرنے والے اور سرور دو عالم کا کلمہ پڑھنے والے حضرات مدفون بزرگوں کو اللہ کی حاکمیت میں شریک اور انہیں اللہ کے حضور اپنا سفارشی بناتے ہیں، اس خود ساختہ عقیدہ کو یہ کہہ کر سچ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ من دون اللہ سے مراد پتھر کے بت اور مٹی سے بنائی ہوئی مورتیاں ہیں، حالانکہ من