سورة یونس - آیت 35

قُلْ هَلْ مِن شُرَكَائِكُم مَّن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ ۚ قُلِ اللَّهُ يَهْدِي لِلْحَقِّ ۗ أَفَمَن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَهِدِّي إِلَّا أَن يُهْدَىٰ ۖ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

کہہ دے کیا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرے؟ کہہ اللہ حق کے لیے رہنمائی کرتا ہے۔ تو کیا جو حق کی طرف رہنمائی کرے وہ زیادہ حق دار ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، یا وہ جو خود اس کے سوا راستہ نہیں پاتا کہ اسے راستہ بتایا جائے؟ تو تمھیں کیا ہے، تم کیسے فیصلہ کرتے ہو؟

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کرتا ہے اور اس پر چلنے کی توفیق دیتا ہے۔ اب بتاؤ جو ہدایت کی طرف رہنمائی کرے اس کی اتباع اور حکم ماننا چاہیے یا جو کسی کی رہنمائی کرنے کی بجائے خود رہنمائی کا محتاج ہو۔ اس کی اتباع کرنی چاہیے۔ ذرا سوچو کہ تم کیسے فیصلے کرتے ہو؟ ظاہر ہے۔ پیروی تو اس کی کرنی چاہیے جو ہدایت کی راہنمائی کرتا ہے اور خود ہدایت والا ہے۔ درحقیقت تم محض فرسودہ خیالات، صرف سنی سنائی باتوں اور اپنے وہم و گمان کے پیچھے لگے ہوئے ہو۔ لیکن یاد رکھو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کررہے ہو۔ ظن کا معنی وہم و گمان، اٹکل پچو اور شک کے ہیں۔ البتہ عربی میں کبھی ظن، یقین کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ لیکن یہاں اس کا معنی اٹکل پچو اور وہم و گمان ہے۔ ( عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لِعَمِّہِ عِنْدَ الْمَوْتِ قُلْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللّٰہُ أَشْہَدُ لَکَ بِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَأَبَی فَأَنْزَلَ اللّٰہُ ”إِنَّکَ لاَ تَہْدِی مَنْ أَحْبَبْتَ۔۔ الآیَۃَ)[ رواہ مسلم : کتاب الایمان] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے چچا ابو طالب کو موت کے وقت کہا لا الہ الا للہ کہہ دو ! میں قیامت کے دن اس بات کی گواہی دوں گا۔ لیکن اس نے انکار کردیا اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : آپ اسے ہدایت نہیں دے سکتے جس کے لیے آپ ہدایت پسند کریں۔“ مسائل ١۔ معبودان باطل میں سے کوئی بھی مخلوق کو پہلی بار پیدا کرنے اور دوبارہ لوٹانے پر قادر نہیں ہے۔ ٢۔ اللہ ہی نے مخلوق کو پیدا کیا وہی اس کو دوبارہ وجود بخشے گا۔ ٣۔ مشرکین کے شریکوں میں کوئی ایسا نہیں جو حق کی طرف رہنمائی کرسکے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ٥۔ حق کی طرف رہنمائی کرنے والا ہی پیروی کا حقدار ہوتا ہے۔ ٦۔ جس کو خود راستے کا علم نہیں وہ دوسرے کو کیا راستہ دکھلائے گا۔ ٧۔ شرک کا عقیدہ عدل و انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ٨۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے افعال کو جاننے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ کی تخلیق میں کوئی شریک نہیں : ١۔ کیا تمہارے شرکاء میں سے کوئی ایسا ہے جس نے مخلوق کو پیدا کیا ہے۔ (یونس : ٣٤) ٢۔ یہ اللہ کی پیدا کردہ مخلوق ہے جو تمہارے معبودوں نے پیدا کیا ہے۔ وہ دکھلاؤ۔ (لقمان : ١١) ٣۔ کیا تم ان کو اللہ کا شریک بناتے ہو جنہوں نے کسی چیز کو پیدا نہیں کیا۔ (الاعراف : ١٩١) ٤۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو انہوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (النحل : ٢٠) ٥۔ جن کو تم نے اللہ کے سوا معبود بنالیا ہے انہوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی بلکہ انہیں پیدا کیا گیا ہے۔ (الفرقان : ٣) ٦۔ کہہ دیجیے جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے دکھاؤ انہوں نے کون سی چیز پیدا کی ہے۔ (الاحقاف : ٤) ٧۔ کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا ہوگئے یا خود اپنے خالق ہیں۔ (الطور : ٣٥) ٨۔ کیا تم ان کے پیدا کرنے والے ہو یا اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا ہے۔ (الواقعۃ: ٥٩)