سورة یونس - آیت 29

فَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ إِن كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَافِلِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

سو اللہ ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان کافی گواہ ہے کہ بے شک ہم تمھاری عبادت سے یقیناً بے خبر تھے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن معبودان باطل سے سوال کرنا اور ان کا جواب : (وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللَّہِ فَیَقُوْلُ أَأَنْتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ ہٰؤُلَاءِ أَمْ ہُمْ ضَلُّوْا السَّبِیْلَ۔ قَالُوْا سُبْحَانَکَ مَا کَانَ یَنْبَغِیْ لَنَا أَنْ نَتَّخِذَ مِنْ دُوْنِکَ مِنْ أَوْلِیَآءَ وَلَکِنْ مَتَّعْتَہُمْ وَاٰبَآءَ ہُمْ حَتّٰی نَسُوْا الذِّکْرَ وَکَانُوْا قَوْمًا بُوْرًا )[ الفرقان : ١٧۔ ١٨] ” اور جس دن اللہ انہیں اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے اکٹھا کرے گا تو ان سے سوال کرے گا کیا تم نے میرے بندوں کو گمراہ کیا تھا یا خود ہی وہ راہ راست سے بھٹک گئے تھے وہ کہیں گے تیری ذات پاک ہے ہمارے لیے لائق نہیں تھا کہ ہم تیرے سوا کسی کو کارساز بناتے تو نے انہیں اور ان کے آباء کو فوائد عطا فرمائے یہاں تک کہ وہ تیری یاد کو بھول گئے یہ تھے ہی ہلاک ہونے کے قابل۔“ معبودوں کی دوسری قسم : دوسرے وہ لوگ ہوں گے جو ولایت کے پردے اور بزرگی کے لبادے میں شرک کی تلقین کرتے تھے یا انہوں نے زندگی میں ایسا انداز اختیار کیا جس سے شرک و بدعت کے دروازے کھلے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے انکار کریں گے۔ لیکن انہیں ان کے مریدوں کے ساتھ جہنم رسید کیا جائے گا۔ تیسرے بے جان معبود جیسے پتھر وغیرہ کے بت انہیں بھی جہنم میں جلایا جائے گا۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پتھروں کو نطق کی طاقت دے گا یہ بول کر کہیں گے کہ ہم تو بے حس اور بے جان تھے تم ہماری نہیں بلکہ شیطان کی عبادت کرتے تھے۔ اس طرح ہر شخص اپنے کیے کو جان لے گا۔ ان کا معاملہ ان کے معبودوں کے حوالے ہونے کی بجائے مالک حقیقی کے سپرد ہوگا یعنی اللہ کے سوا کوئی بھی ان کی مدد نہیں کرسکے گا۔ جو دنیا میں ایک دوسرے کو جھوٹی تسلیاں دیتے تھے اور اللہ کے سوا جن کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے سب کچھ بھول جائیں گے۔ مسائل ١۔ قیامت کے دن اللہ سب کو جمع فرمائے گا۔ ٢۔ مشرکوں کو اپنی جگہ پر ٹھہرے رہنے کا حکم دیا جائے گا۔ ٣۔ مشرک اور ان کے معبودوں کے درمیان پھوٹ پڑجائے گی۔ ٤۔ معبودان اپنی عبادت کا انکار کردیں گے۔ ٥۔ قیامت کے دن ہر کسی کو اس کے اعمال کا پتہ چل جائے گا۔ ٦۔ قیامت کے دن ہر کسی نے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے۔ ٧۔ قیامت کے دن معبودان باطل غائب ہوجائیں گے۔ تفسیربا لقرآن جہنمیوں کا اپنے معبودوں سے بحث و تکرار : ١۔ قیامت کے دن معبودان باطل اپنی عبادت کا انکار کردیں گے۔ (یونس : ٢٨) ٢۔ قیامت کے دن مشرک اپنے شرکاء کو دیکھ کر کہیں گے کہ ہم ان کی عبادت کرتے تھے اور معبود انکار کردیں گے۔ (النحل : ٨٦) ٣۔ قیامت کے دن مشرک اپنے معبودان کو دیکھ کر کہیں گے ہمیں یہ گمراہ کرنے والے تھے۔ (القصص : ٦٣) ٤۔ قیامت کے دن پیر اپنے مریدوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ (البقرۃ: ١٦٦) ٥۔ اس دن اللہ مشرکوں سے فرمائے گا میرے شریک کہاں ہیں وہ کہیں گے ہم میں سے کوئی اس کا دعویدار نہیں۔ (حٰم السجدۃ: ٤٧) ٦۔ قیامت کے دن مشرکوں سے کہا جائیگا اپنے معبودوں کو پکارو لیکن ان کے معبود ان کی پکار کا کوئی جواب نہیں دیں گے۔ (الکھف : ٥٢) ٧۔ جہنم میں داخل ہونے والے اپنے سے پہلوں کو دیکھ کرکہیں گے۔ ہمیں گمراہ کرنے والے یہی لوگ تھے انہیں دوگنا عذاب دیا جائے۔ (الاعراف : ٣٨)