سورة یونس - آیت 12

وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَا إِلَىٰ ضُرٍّ مَّسَّهُ ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پہلو پر، یا بیٹھا ہوا، یا کھڑا ہوا ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں کسی تکلیف کی طرف، جو اسے پہنچی ہو، پکارا ہی نہیں۔ اسی طرح حد سے بڑھنے والوں کے لیے مزین بنا دیا گیا جو وہ کیا کرتے تھے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اسراف کا معنی ہے : زیادتی کرنا، حد سے تجاوز کرنا، فضول خرچی کرنا۔ اسراف میں یہ جرم بھی شامل ہوتا ہے کہ کسی فرد، خاندان یا قوم کے لیے گناہ فیشن کا درجہ اختیار کر جائے اگر اسے روکا جائے تو وہ اس میں اپنی توہین اور گناہ کو چھوڑنے میں دقیانوسی ہونے کا طعنہ محسوس کرتا ہے۔ (إِنَّ الْمُبَذِّرِینَ کَانُوْا إِخْوَان الشَّیَاطِینِ وَکَان الشَّیْطَانُ لِرَبِّہِ کَفُوْرًا)[ بنی اسرائیل : ٢٧] ” بلاشبہ فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا نافرمان تھا۔“ فضول خرچی کی ممانعت : (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَتَصَدَّقُوْا وَالْبَسُوْا مَا لَمْ یُخَالِطْ إِسْرَافٌ وَلَا مَخِیْلَۃٌ )[ رواہ ابن ماجہ : باب البس ماشئت] ” حضرت عمر بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کھاؤ، پیو، صدقہ کرو اور پہنو جب تک اس میں فضول خرچی اور فخر نہ آئے۔“ (وَالَّذِیْنَ إِذَا أَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذَلِکَ قَوَامًا )[ الفرقان : ٦٧] ” نیک لوگ جب خرچ کرتے ہیں تونہ اسراف کرتے ہیں اور نہ کنجوسی کرتے ہیں بلکہ میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔“ جلد بازی شیطان کی حرکت : (حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُہَیْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الأَنَاۃُ مِنَ اللَّہِ وَالْعَجَلَۃُ مِنَ الشَّیْطَانِ ) [ رواہ الترمذی : باب ماجاء فی التانی] ” حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بردباری اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کسی کو عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ رحم و کرم فرمانے میں جلدی کرتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا منکر اپنے گناہوں میں پریشان رہتا ہے۔ ٤۔ دنیا دار انسان مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے۔ ٥۔ دنیا پرست اور مشرک مصیبت ٹل جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے۔ ٦۔ گناہ کرنے والوں کے لیے ان کے گناہ خوبصورت بنا دیے جاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن انسان جلد باز اور احسان فراموش ہے : ١۔ انسان جلد باز ہے۔ (بنی اسرائیل : ١١) ٢۔ انسان فطرتاً جلد باز ہے۔ (الانبیاء : ٣٧) ٣۔ یقیناً انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ ( العادیات : ٦) ٣۔ لوگ عذاب طلب کرنے میں جلدی کرتے ہیں۔ (الحج : ٤٧) ٤۔ کیا وہ ہمارے عذاب کے معاملے میں جلدی کرتے ہیں۔ (الشعرا : ٢٠٤) ٥۔ میں عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا سو جلدی نہ کرو۔ (الانبیاء : ٣٧) ٦۔ اللہ کا حکم آنے والا ہے جلدی نہ کرو۔ (النحل : ١)