سورة التوبہ - آیت 110

لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ إِلَّا أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

ان کی عمارت جو انھوں نے بنائی، ہمیشہ ان کے دلوں میں بے چینی کا باعث بنی رہے گی، مگر اس صورت میں کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

بے شک ان کے دلوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے تو بھی ان کے دلوں سے کفر نکلنے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ یہ اسی حالت میں مریں گے۔ لہٰذا ان کو اپنی حکمت کے مطابق مہلت دیے جارہا ہے۔” شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ“ کے الفاظ استعمال فرما کر اس مسجد کے گرانے کا واضح اشارہ دیا گیا جس بناء پر رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے گرانے اور جلانے کا حکم صادر فرمایا۔ مسائل ١۔ ہر کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرنا چاہیے۔ ٢۔ ایمان اور نفاق کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ ٣۔ ایمان ایک عمارت کی طرح ہے جس کی بنیاد پختہ ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ ٥۔ جس عمل کی بنیاد نفاق پر ہو خواہ کتنا ہی اچھا لگے وہ جہنم کا سبب ہوگا۔ ٦۔ اعتقادی منافق مرتے دم تک نفاق سے چھٹکارا نہیں پاتا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ظالم اور فاسق کو ہدایت نہیں دیتا : ١۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (التوبۃ: ١٠٩) ٢۔ یہودیوں اور عیسائیوں سے دوستی کرنے والا انہی میں سے ہے اس کو اللہ ہدایت نہیں دیتا۔ ( المائدۃ: ٥١) ٣۔ اللہ منافقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (الصف : ٥) ٤۔ اللہ منافقوں کو ہرگز معاف نہیں کرے گا اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (المنافقون : ٦) ٥۔ جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے ہیں وہ برے لوگ ہیں۔ اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (الجمعۃ: ٥)