سورة التوبہ - آیت 107

وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِن قَبْلُ ۚ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا الْحُسْنَىٰ ۖ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور وہ لوگ جنھوں نے ایک مسجد بنائی نقصان پہنچانے اور کفر کرنے (کے لیے) اور ایمان والوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے (کے لیے) اور ایسے لوگوں کے لیے گھات کی جگہ بنانے کے لیے جنھوں نے اس سے پہلے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی اور یقیناً وہ ضرور قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے بھلائی کے سوا ارادہ نہیں کیا اور اللہ شہادت دیتا ہے کہ بے شک وہ یقیناً جھوٹے ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : منافقوں اور مومنوں کے کردار اور انجام کا تقابل جاری ہے۔ منافقوں کی ایک اور سازش کا ذکر شروع ہوتا ہے جس کی تفصیل اس طرح ہے۔ ابو عامر جو مدینہ کا ہی رہنے والا تھا۔ نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدینہ تشریف آوری سے پہلے اس کی مدینہ میں بڑی عزت و تکریم کی جاتی تھی۔ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ورودِمدینہ سے پہلے عیسائیت قبول کی اور لوگوں میں راہب کے نام سے جانا پہچانا جاتا تھا۔ آپ کی آمد پر اس نے منافقت کا لبادہ اوڑھا اور آئے روز نئی سے نئی سازش تیار کرتا۔ اس شخص کو غسیل الملائکہ حضرت ابو حنظلہ (رض) کا باپ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اللہ کی شان بہترین بیٹے کا بد ترین باپ حضرت ابو حنظلہ (رض) کا منفرد اعزاز ہے کہ جب احد میں شہید ہوئے تو ان کی بیوی نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بڑی حیا داری سے عرض کی کہ اللہ کے رسول مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے شہیدوں کو بغیر غسل کے دفنانے کا فیصلہ فرمایا ہے۔ لیکن میرا خاوند حنظلہ واجب الغسل ہے۔ آپ نے فرمایا بی بی فکر نہ کرو۔ میں نے دیکھا ہے کہ آپ کے خاوند کو ملائکہ نے غسل دے دیا ہے۔ اس فرمان کے بعد انھیں غسیل الملائکہ کہا جانے لگا۔ (سنن البیہقی) غسیل الملائکہ کے باپ ابو عامر نے منافقین کو مشورہ دیا کہ مدینہ میں ہمارے لیے کسی الگ جگہ اکٹھا ہونا مشکل ہوگیا ہے۔ تم مسجد کے نام پر ایک ایسی عمارت بناؤ جس میں ہم نبی کو ناکام کرنے کا منصوبہ بنایا کریں چنانچہ انھوں نے اس نیت اور غرض سے مسجد بنائی۔ ان کے پروگرام میں مسلمانوں کو