سورة التوبہ - آیت 62

يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَقُّ أَن يُرْضُوهُ إِن كَانُوا مُؤْمِنِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

تمھارے لیے اللہ کی قسم کھاتے ہیں، تاکہ تمھیں خوش کریں، حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ حق دار ہے کہ وہ اسے خوش کریں، اگر وہ مومن ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کے کردار اور گفتار کا بیان جاری ہے۔ منافق محض اپنی چرب لسانی سے مومنوں کو راضی کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ انھیں اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنا چاہیے تھا۔ اگر اللہ اور اس کا رسول راضی ہوجاتا ہے تو مومن خود بخود راضی ہوجاتے لیکن اے منافقو! تمھاری حالت یہ ہے کہ جو کچھ بھی کر رہے ہو وہ کہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ مقابلہ کرنے کے مترادف ہے۔ یاد رکھو تمھیں دنیا میں مہلت دی جا رہی ہے لیکن بالآخر تم نے ہمیشہ جہنم میں جلنا ہے اس سے بڑھ کر کوئی اور تکلیف اور رسوائی نہیں ہو سکتی۔ منافق کو منافق اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ دوہرے کردار اور گفتار کا مالک ہوتا ہے۔ منافقین جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں کسی گستاخی کا ارتکاب کرتے تو مسلمانوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ان کے سامنے قسمیں اٹھا اٹھا کر کہتے کہ ہماری بات کا فلاں شخص نے غلط مفہوم لیا ہے ہم تو اللہ کے رسول کے بارے میں کسی گستاخی کا تصور نہیں کرسکتے۔ اس طرح وہ مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے اس پر انھیں سمجھایا گیا کہ اگر تم سچا ایمان رکھتے ہو تو اللہ اور اس کا رسول زیادہ حق دار ہیں کہ تم ان کو راضی کرو کیونکہ اللہ اور اس کا رسول تم پر راضی ہوں گے۔ تو صحابہ کرام (رض) خود بخود راضی ہوجائیں گے یہاں ضمیر تثنیہ کی آنی چاہیے تھی۔ لیکن ضمیر واحد کی لا کر ثابت کیا ہے کہ اصل رضا مندی اللہ تعالیٰ کی ہونی چاہیے رسول تو اپنے رب کی رضا کا پابند ہوتا ہے اور مومن رسول کے تابع ہوتے ہیں اس لیے اسی سورۃ کی آیت ٩٦ میں وضاحت فرمائی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر منافقوں پر کسی وجہ سے راضی ہو بھی جائیں تو اللہ ان پر ہرگز راضی نہ ہوگا۔ جہنم کی سزا : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ نَارُکُمْ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِینَ جُزْءً ا مِنْ نَارِ جَہَنَّمَ قیلَ یَا رَسُول اللّٰہِ إِنْ کَانَتْ لَکَافِیَۃً قَالَ فُضِّلَتْ عَلَیْہِنَّ بِتِسْعَۃٍ وَسِتِّینَ جُزْءً ا کُلُّہُنَّ مِثْلُ حَرِّہَا) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب صفۃ النار] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں ایک دفعہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمھاری دنیاکی آگ جہنم کی آگ کے سترویں درجے پر ہے۔ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا گیا آگ ہی کافی تھی۔ آپ نے فرمایا وہ اس سے انہتر درجے زیادہ تیز ہے اور ہر درجہ دوسرے سے زیادہ تیز ہے۔“ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ أُوقِدَ عَلَی النَّارِ أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی احْمَرَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی ابْیَضَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی اسْوَدَّتْ فَہِیَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَۃٌ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ جہنم] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک ہزار سال تک دوزخ کی آگ کو بھڑکا یا گیا حتیٰ کہ وہ سرخ ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک بھڑکا یا گیا یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا حتیٰکہ وہ سیاہ ہوگئی اب اس کا رنگ سیاہ ہے۔“ (عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فِی قَوْلِہٖ وَیُسْقٰی مِنْ مَّاءٍ صَدِیدٍ یَتَجَرَّعُہٗ قَالَ یُقَرَّبُ إِلَیْہِ فَیَتَکَرَّہُہٗ فَإِذَا دَنَا مِنْہُ شُوِیَ وَجْہُہٗ وَوَقَعَتْ فَرْوَۃُ رَأْسِہٖ وَإِذَا شَرِبَہٗ قَطَّعَ أَمْعَاءَ ہٗ حَتَّی خَرَجَ مِنْ دُبُرِہٖ) [ رواہ احمد ] ” حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جہنمیوں کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا وہ ان کو جلا دے گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ ان کے قریب کیا جائے گا تو وہ اس کو نا پسند کرے گا جونہی وہ اس کے قریب ہوگا تو اس کا چہرہ جھلس جائے گا اور اس کے سر کے بال بھی گر جائیں گے اور جب وہ پیے گا تو اس کی آنتیں کٹ جائیں گی یہاں تک کہ وہ پانی اس کی پشت سے نکل جائے گا۔“ مسائل ١۔ اللہ کی رضا میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنوں کی رضا ہے۔ ٢۔ انسان کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ٣۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرنے والے ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔