سورة التوبہ - آیت 53

قُلْ أَنفِقُوا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا لَّن يُتَقَبَّلَ مِنكُمْ ۖ إِنَّكُمْ كُنتُمْ قَوْمًا فَاسِقِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

کہہ دے خوشی سے خرچ کرو، یا ناخوشی سے، تم سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ بے شک تم ہمیشہ سے نافرمان لوگ ہو۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : منافق کے طرزِعمل پر تبصرہ جاری ہے۔ منافق کی منافقت کی وجہ سے جس طرح اس کے دیگر اعمال ضائع ہوتے ہیں اسی طرح اس کا صدقہ و خیرات بھی ضائع ہوجاتا ہے۔ ایمان میں کھوٹے لوگ جب مسلمانوں کی طاقت محسوس کرتے ہیں تو منافقت کا وطیرہ اختیار کرتے ہیں تاکہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں سے فائدہ اٹھائیں۔ یہ حال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کے منافقوں کا تھا اس کے لیے کفار کے خلاف جنگ میں مسلمانوں کے ساتھ مل کر میدان کار زار میں پہنچتے اور اپنی منافقت کو چھپانے کے لیے مال خرچ کرتے تھے تاکہ ان کی منافقت چھپ سکے۔ انھیں ان کے صدقہ و خیرات کے بارے میں بتلایا گیا ہے کہ بے شک تم خوشی سے خرچ کرو یا بادل نخواستہ۔ تمھاری منافقت کی وجہ سے اللہ کے ہاں اس کی دمڑی بھر بھی حیثیت نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ منافق اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرنے والے، نماز میں جان بوجھ کر سستی اختیار کرنے کے ساتھ جو کچھ خرچ کرتے ہیں بادل نخواستہ خرچ کرتے ہیں۔ یہاں منافق کی تین خصلتیں بیان کرکے ان کے عقیدہ کو کفر قرار دیا گیا ہے گویا کہ منافق کلمہ پڑھنے اور بظاہر ارکان اسلام پر عمل کرنے کے باوجود حقیقتاً کافر ہوتا ہے۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٰےَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلٰثٌ زَادَ مُسْلِمٌ وَاِنْ صَامَ وَصَلّٰی وَزَعَمَ اَنَّہُ مُسْلِمٌ ثُمَّ اتَّفَقَا اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا اءْتُمَنَّ خَانَ) (رواہ مسلم : باب خصائل المنافق) ” حضرت ابوہریرہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ذکر کرتے ہیں منافق کی تین نشانیاں ہیں۔1 جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے 2 جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے 3 جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔ (متفق علیہ) مسلم شریف میں ان الفاظ کا اضافہ ہے ” چاہے روزے رکھتا اور نماز پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔“ مسائل ١۔ منافق کی کوئی نیکی قبول نہیں ہوتی۔ ٢۔ منافق اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ حقیقتاً کفر کرتا ہے۔ ٣۔ منافق جان بوجھ کر نماز میں بے توجہگی اور کاہلی اختیار کرتا ہے۔ ٤۔ منافق نمود و نمائش اور مجبوری کی بنا پر صدقہ کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن منافق کی نماز : ١۔ منافق اللہ کو دھوکہ دیتا ہے نماز میں سستی و کاہلی، ریاکاری اختیاری کرتا ہے، اللہ کو تھوڑا یاد کرتا ہے۔ (النساء : ١٤٢) ٢۔ دوزخ کا عذاب ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے غافل اور ریا کار ہیں۔ (الماعون : ٤ تا ٦ ) ٣۔ ایسے کفار اور منافقین کے ساتھ اللہ کا وعدہ جہنم کا ہے۔ (التوبۃ: ٦٨)