سورة البقرة - آیت 120

وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَىٰ ۗ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور تجھ سے یہودی ہرگز راضی نہ ہوں گے اور نہ نصاریٰ، یہاں تک کہ تو ان کی ملت کی پیروی کرے۔ کہہ دے بے شک اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے۔ اور اگر تو نے ان کی خواہشات کی پیروی کی، اس علم کے بعد جو تیرے پاس آیا ہے، تو تیرے لیے اللہ سے (چھڑانے میں) نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مدد گار۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اہل کفر اور یہود و نصاریٰ کے تمام کے تمام مطالبات بھی مان لیے جائیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے لہٰذا اے رسول ! آپ اپنا کام کرتے رہیں کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کا ہر مطالبہ پورا کرنے اور ہر حال میں انہیں راضی کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ آپ حق کی شہادت اور ان کے برے کاموں کے انجام سے ڈراتے ہیں۔ ہدایت تو وہی لوگ پائیں گے جو کتاب اللہ کو اخلاص نیت کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ صحابہ کرام (رض) کو رہ رہ کر یہ خیال آتا تھا کہ اہل کتاب پڑھے لکھے اور اپنے دین پر قائم ہونے کے دعویدار ہونے کے باوجود رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟ انہی کو تسلی دینے کے لیے براہ راست رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے یہود و نصاریٰ کی فطرت خبیثہ کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے کہ یہ لوگ اس وقت تک آپ سے خوش نہیں ہو سکتے جب تک آپ لوگ اپنا دین چھوڑ کر ان کے دین کو قبول نہ کرلیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہدایت تو وہی ہے جس پر وہ قائم ہیں۔ اے نبی! ان سے فرما دیجیے جسے تم ہدایت سمجھتے ہو وہ ہرگز ہدایت نہیں۔ ہدایت تو وہ ہے جس کی رہنمائی اور توفیق اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے۔ یہاں ہمیشہ کے لیے یہ اصول بیان کردیا کہ ہدایت وہ نہیں جس کو کوئی انسان‘ قوم یا کوئی پارلیمنٹ متعین کرے بلکہ حقیقی ہدایت وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی صورت میں آپ پر نازل فرمایا ہے۔ اگر علم و معرفت کے باوجود آپ ان کی طرف جھک گئے تو یاد رکھیں کہ جن لوگوں کی حمایت اور خوشی کے لیے آپ ایسا کریں گے وہ تو در کنار کوئی بھی ذات کبریا کے سوا آپ کا خیر خواہ اور مددگار ثابت نہیں ہوگا۔ اس فرمان کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو پیش نگاہ رکھنا چاہیے۔ اگر مسلمان دوسروں کو خوش کرنے کے لیے اپنا دین اور تہذیب چھوڑدیں گے تو اس طرح یہود و نصاریٰ تو وقتی طور پر خوش ہوں گے لیکن مسلمان اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت سے محروم ہوجائیں گے۔ جو اللہ تعالیٰ کی نصرت وحمایت سے محروم ہوا اس کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی وضاحت فرمائی جا رہی ہے کہ اہل کتاب میں وہی لوگ محمد عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور قرآن کی صداقت پر ایمان لائیں گے جو ذہنی تحفظات اور گروہی تعصبات سے بالا تر ہو کر تورات‘ انجیل اور قرآن مجید پر ایمان لاتے ہیں۔ حصول ہدایت کا یہی وہ بنیادی اصول ہے جس کے لیے قرآن بار بار اس بات کی دعوت دیتا ہے۔ کہ اے دنیا جہاں کے لوگو ! کتاب ہدایت میں تدبر وتفکر کرو تاکہ تمہارے لیے ہدایت کا راستہ واضح اور آسان ہوجائے۔ جنہوں نے کتاب اللہ میں تدبر و تفکر سے اجتناب اور اس کے حقائق کا انکار کیا وہ بالآخر نقصان پائیں گئے۔