سورة الانفال - آیت 32

وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور جب انھوں نے کہا اے اللہ! اگر صرف یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : قرآن اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ جدوجہد سے تنگ آکر کفار کی انتہا درجے کی جہالت، اکھڑ مزاجی اور اللہ تعالیٰ کے حضور گستاخی۔ مکہ کے سردار اس قدر ہٹ دھرمی اور جہالت پر اتر آئے کہ ایک دن ابو جہل کے ساتھ مل کر بیت اللہ میں جمع ہوئے۔ اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور اس کی توفیق مانگنے کے بجائے بیت اللہ کے غلاف کو پکڑ کر یہ دعا مانگتے ہیں۔ بار الٰہا! اگر واقعی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچارسول ہے اور اس پر تو نے حق نازل کیا ہے تو پھر ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا۔ یا ہمیں اپنے عذاب میں مبتلا کر دے۔ دنیا کی تاریخ میں شاید یہ پہلا اور آخری واقعہ ہوگا کہ جس میں انسان اس حد تک بغاوت پر اتر آیا ہو کہ وہ اللہ کے گھر میں کھڑے ہو کر اس سے اس کی رحمت اور ہدایت طلب کرنے کے بجائے۔ اس کے غضب کو چیلنج کر رہا ہو۔ جس طرح مکہ والوں نے انتہا کی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ان کی منہ مانگی مراد پوری کرتے ہوئے انھیں ایک لمحہ کی تاخیر دیے بغیر بیت اللہ کے صحن کے اندر ہی تہس نہس کردیا جاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی شفقت و مہربانی، حلم اور بردباری اس قدر بے کنار ہے کہ ان پر پتھر برسانے کی بجائے یہ کہہ کر مہلت دی کہ اللہ کے لیے عذاب نازل کرنا کوئی مشکل نہیں کہ وہ تم پر قوم لوط کی طرح پتھر برسائے یا قوم عاد کی طرح پٹخ پٹخ کر زمین پردے مارے کیونکہ تم واقعی اس لائق ہو کہ تمھیں فی الفور ختم کردیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمھارا وجود معاشرے کے لیے ناسور اور دین حق کی راہ میں رکاوٹ بن چکا ہے لیکن اللہ تعالیٰ تم پر اس لیے عذاب نازل نہیں کر رہا کہ اس کا محبوب اور اس کے توبہ و استغفار کرنے والے ساتھی تم میں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے یہ اصول رہا ہے کہ جس بستی میں اس کا رسول ہو اس بستی کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک رسول کو وہاں سے ہجرت کا حکم نہ ہوجائے۔ دوسری بات جو اللہ تعالیٰ کے غضب کو ٹھنڈا کرتی اور اس کے عذاب کو ٹالتی ہے۔ وہ اس کے مومن بندوں کا توبہ و استغفار کرنا ہے جس بستی میں توبہ و استغفار کرنے والے لوگ زیادہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اس بستی کو کبھی ہلاک نہیں کرتا اس لیے ہم پر لازم ہے کہ ہم صبح و شام اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرتے رہیں۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْ لُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِنَّ عَبْدًا اَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ رَبِّ اَذْنَبْتُ فَاغْفِرْہُ فَقَالَ رَبُّہُ اَعَلِمَ عَبْدِیْ اَنَّ لَہٗ رَبًّا یَّغْفِرُ الذَّنْبَ وَےَاْخُذُبِہٖ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ ثُمَّ مَکَثَ مَا شَآء اللّٰہُ ثُمَّ اَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ رَبِّ اَذْنَبْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْہُ فَقَالَ اَعَلِمَ عَبْدِیْ اَنَّ لَہٗ رَبًّا یَّغْفِرُ الذَّنْبَ وَ ےَاْخُذُ بِہٖ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ ثُمَّ مَکَثَ مَاشَآء اللّٰہُ ثُمَّ اَذْنَبَ ذَنْبًا قَالَ رَبِّ اَذْنَبْتُ ذَنْبًا اٰخَرَ فَاغْفِرْہُ لِیْ فَقَالَ اَعَلِمَ عَبْدِیْ اَنَّ لَہٗ رَبًّا یَّغْفِرُ الذَّنْبَ وَےَاْخُذُ بِہٖ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ فَلْےَفْعَلْ مَا شَآءَ)[ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ یریدون ان یبدلوا کلام اللہ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) کا بیان ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا‘ کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر اپنے رب سے عرض کرتا ہے کہ میں گناہ کر بیٹھا ہوں تو اے رب معاف فرما۔ اس کا رب فرشتوں سے کہتا ہے‘ کیا میرے بندے کو معلوم ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہوں کو معاف کرتا ہے اور ان پر مؤاخذہ بھی کرتا ہے؟ لہٰذا میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ پھر جب تک اللہ کی توفیق ہوتی ہے وہ گناہ سے باز رہتا ہے‘ پھر اس سے گناہ ہوجاتا ہے اور پھر اپنے رب کو پکارتا ہے۔ میرے پروردگار مجھ سے گناہ ہوگیا ہے۔ میرے اللہ! مجھے معاف فرما۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے استفسار کرتا ہے کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ کوئی اس کا مالک ہے جو گناہوں کو معاف بھی کرتا ہے اور ان پر پکڑبھی کرتا ہے؟ میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا! اب وہ جو چاہے کرے۔“ (یعنی سابقہ گناہ پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا۔) “ (عَنْ أَبِی سَعِیدٍ (رض) عَنْ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَنْ قَال حینَ یَأْوِی إِلٰی فِرَاشِہٖ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْعَظِیمَ الَّذِی لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ ذُنُوبَہُ وَإِنْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ وَإِنْ کَانَتْ عَدَدَ وَرَقِ الشَّجَرِ وَإِنْ کَانَتْ عَدَدَ رَمْلِ عَالِجٍ وَإِنْ کَانَتْ عَدَدَ أَیَّام الدُّنْیَا) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات] ” حضرت ابو سعید (رض) نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں جو شخص اپنے بستر پر لیٹتے ہوئے تین مرتبہ یہ کلمات کہتا ہے ”أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْعَظِیمَ الَّذِی لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیَّ الْقَیُّومَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ“ تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کردیتا ہے اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں، اگرچہ درختوں کے پتوں کی تعداد کے برابر بھی ہوں، اگرچہ صحرا کی ریت کے ذروں کے برابر بھی ہوں، اگرچہ دنیا کے دنوں کی تعداد کے برابر بھی ہوں۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت نہیں دینی چاہیے۔ ٢۔ استغفار کرنے سے اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹل جاتا ہے۔