سورة الانفال - آیت 13

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ وَمَن يُشَاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

یہ اس لیے کہ بے شک انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے تو بے شک اللہ بہت سخت عذاب والا ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اس طرح قلبی اطمینان، ذہنی آسودگی، جسمانی نشاط اور ملائکہ کی کمک کی وجہ سے مجاہد قدم جما کر لڑے۔ اس دوران یہ وحی بھی نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے دلوں میں تمھارا رعب ڈال دیا ہے۔ گویا کہ وہ پوری طرح تم سے مرعوب ہوگئے ہیں۔ لہٰذا آگے بڑھ کر ان کی گردنیں کاٹو اور جوڑ جوڑ کو نشانہ بناؤ کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے باغی ہیں۔ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کا باغی ہوگا اس کو دنیا کی سزا کے ساتھ آخرت میں شدید عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ جس طرح بدر میں انھیں مارنے کا تمھیں حکم دیا گیا ہے اسی طرح جہنم کی آگ میں جھونکتے ہوئے ملائکہ انھیں کہیں گے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانیوں کا مزا ہمیشہ چکتے رہو۔ ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔۔ یہ فلاں شخص کی قتل گاہ ہے یہ فلاں شخص کی جگہ ہے آپ نے اپنا دست مبارک زمین پر رکھ کر بتا یا۔ انس (رض) کہتے ہیں کافروں میں سے کوئی بھی دوسری جگہ نہیں گراتھا جہاں جہاں رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دست مبارک رکھا تھا۔“ [ رواہ مسلم] (عَن ابْنِ عُمَرَ (رض) قَالَ وَقَفَ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَلٰی قَلِیبِ بَدْرٍ فَقَالَ ہَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا ثُمَّ قَالَ إِنَّہُمْ الْآنَ یَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ فَذُکِرَ لِعَاءِشَۃَ (رض) فَقَالَتْ إِنَّمَا قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّہُمْ الْآنَ لَیَعْلَمُونَ أَنَّ الَّذِی کُنْتُ أَقُولُ لَہُمْ ہُوَ الْحَقُّ ثُمَّ قَرَأَتْ إِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی حَتّٰی قَرَأَتْ الْآیَۃَ) [ رواہ البخاری] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کے کنویں کے قریب کھڑے ہو کر پوچھ رہے تھے جو تم سے تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا کیا اس کو تم نے سچا پایا ہے؟ پھر فرمایا بلاشبہ یہ اس وقت سن رہے ہیں جو میں انہیں کہہ رہا ہوں حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کے سامنے اس بات کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف یہ فرمایا تھا بے شک ان لوگوں کو اب معلوم ہوگیا جو میں انھیں کہتا تھا وہ سچ ہے پھر اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی۔ ” آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے“ یہاں تک کہ مکمل آیت کی تلاوت کی۔“ مقصد یہ تھا کہ اصل اصول یہی ہے کہ مردے نہیں سنتے لیکن آج یہ میری بات سن رہے ہیں۔ (عَنْ أَنَسٍ (رض) قَالَ کُنَّا مَعَ عُمَرَ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃِ أَخَذَ یُحَدِّثُنَا عَنْ أَہْلِ بَدْرٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَیُرِینَا مَصَارِعَہُمْ بالْأَمْسِ قَالَ ہٰذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ إِنْ شَاء اللّٰہُ غَدًا قَالَ عُمَرُ وَالَّذِی بَعَثَہُ بالْحَقِّ مَا أَخْطَءُوا تیکَ فَجُعِلُوا فِی بِءْرٍ فَأَتَاہُمْ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَنَادٰی یَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ یَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ ہَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا فَإِنِّی وَجَدْتُّ مَا وَعَدَنِی اللّٰہُ حَقًّا فَقَالَ عُمَرُ تُکَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاح فیہَا فَقَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْہُمْ) [ رواہ مسلم : کتاب الجنائز، باب أرواح المؤمنین] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں ہم حضرت عمر (رض) کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر میں تھے وہ ہمیں اہل بدر کے متعلق بتانے لگے۔ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ جگہیں متعین فرمائیں ہمیں دکھانے کے لیے جہاں اگلے دن کافروں نے قتل ہونا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر اللہ نے چاہا تو فلاں کے قتل ہونے کی جگہ ہے۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا کافر مقررہ جگہوں سے ذرا بھی نہیں ہٹے تھے انہیں کنویں میں پھینک دیا گیا۔ کنویں کے پاس نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور انہیں آواز دیتے ہوئے فرمایا اے فلاں بن فلاں، اے فلاں بن فلاں کیا تم سے تمہارے رب نے اور جو وعدہ کیا تھا تم نے اسے سچ پایا ہے۔ بلاشبہ میرے رب نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا میں نے اسے سچ پا یا ہے۔ حضرت عمر (رض) کہتے ہیں لاشوں کے ساتھ باتیں ہوئیں جبکہ ان میں روحیں نہیں تھیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ تم سے زیادہ سن رہے ہیں جو میں ان سے کہہ رہا ہوں۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے غزوۂ بدر میں فرشتوں کے ذریعے مدد کی۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت مختلف انداز سے نازل فرماتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ کے سوا کوئی مدد کرنے والا نہیں : ١۔ نہیں ہے تمھارا کوئی اللہ کے سوا دوست اور نہ مددگار۔ (البقرۃ: ١٠٧) ٥۔ نہ ملے ان کو اللہ کے سوا کوئی دوست اور نہ مددگار۔ (الاحزاب : ١٧) ٢۔ نہیں ہے تمھارے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار جو تمھاری مدد کرسکے۔ (ھود : ١٣) ٣۔ نہیں ہے ان کے لیے زمین میں کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار۔ (التوبۃ: ٧٤) ٤۔ نہیں ہے تمھارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست اور سفارشی پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے۔ (السجدۃ: ٤)