سورة الانفال - آیت 2

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

(اصل) مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو انھیں ایمان میں بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسا رکھتے ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : انفال کے بارے میں ابتدائی حکم دینے کے بعد مومن کی صفات کا بیان اور اس کا صلہ۔ پہلی آیت میں ایک سوال کا جواب دینے کے بعد مسلمانوں کو جامع ہدایات دی گئی ہیں جس پر عمل پیرا ہونے سے مسلمان میں یہ اوصاف پیدا ہوجاتے ہیں جن سے وہ پکامومن بن جاتا ہے۔ درجات بلند ہونے کے ساتھ مومن کو اللہ کی طرف سے اس کی بخشش اور بہترین رزق کی گارنٹی حاصل ہوتی ہے۔ صحابہ کرام ] نے مال غنیمت کی تقسیم کا حکم سنتے ہی ایک ایک چیز رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے کی اور دل و جان سے اس پر راضی ہوگئے۔ اس پر ان کی تعریف کرتے ہوئے مزید تاکید کی گئی ہے کہ مومن تو وہ ہیں کہ جن کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو تو ان کے دل موم سے زیادہ نرم ہوجاتے ہیں۔ اور جب ان کے سامنے اس کی آیات تلاوت کی جائیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور وہ عسر اور یسر میں اپنے رب پر توکل کرنے والے ہیں۔ یہی لوگ نماز کی پابندی کرتے ہیں۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انھیں عطا کر رکھا ہے اس میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یہی لوگ پکے اور سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے ہاں درجات ہیں۔ اگر ان سے کوئی گناہ سرزدہو جائے تو اللہ تعالیٰ انھیں اپنے کرم سے معاف کردیتے ہیں۔ ان کے لیے نہایت ہی عمدہ رزق تیار کیا گیا ہے یعنی جنت کی نعمتوں کے ساتھ دنیا میں رزق کی فراخی نصیب ہوگی۔ صحابہ کرام ] اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم سمجھ کر مال غنیمت کی تقسیم پر راضی ہوئے اس پر انھیں رزق کریم کی خوشخبری دی گئی۔ جس کے صلہ میں وہ دنیا میں کثیر مال و اسباب کے مالک ہوئے اور قیامت کے دن انھیں جنت کی نعمتوں سے مالا مال کیا جائے گا جو مسلمان بھی ان اوصاف کا حامل ہوگا اللہ تعالیٰ اسے ان نعمتوں کے ساتھ سرفراز فرمائے گا۔ ذکر سے مراد اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کے احکام اور زبانی جسمانی ذکر ہے۔ مسائل ١۔ مومن کی نشانی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی آیات سن کر اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ٢۔ مومنوں کو ہر حال میں اپنے رب پر توکل کرنا چاہیے۔ ٣۔ مسلمان کو نماز کا اہتمام اور زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے۔ ٤۔ مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے درجات، بخشش اور عمدہ رزق ملے گا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی بخشش اور رزق کریم : ١۔ مومنوں کے لیے رب کے پاس درجات، بخشش اور رزق کریم ہے۔ (الانفال : ٤) ٢۔ نیک اعمال کرنے والوں کا بدلہ بخشش اور رزق کریم ہے۔ (سبا : ٤) ٣۔ ایمان دار نیک اعمال کرنے والوں کے لیے بخشش اور رزق کریم ہے۔ (الحج : ٥٠) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمانبردار بندوں کے لیے دوہرا اجر اور رزق کریم تیار کر رکھا ہے۔ (الاحزاب : ٣١) ٥۔ یہ لوگ مبرا ہیں ان کی باتوں (بہتان طرازی) سے ان کے لیے بخشش اور رزق کریم ہے۔ (النور : ٢٦)