سورة الاعراف - آیت 73

وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا ۗ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ قَدْ جَاءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ هَٰذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً ۖ فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللَّهِ ۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا)، اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آ چکی۔ یہ اللہ کی اونٹنی تمھارے لیے ایک نشانی کے طور پر ہے، سو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اسے کسی برے طریقے سے ہاتھ نہ لگانا، ورنہ تمھیں ایک درد ناک عذاب پکڑ لے گا۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن حضرت صالح (علیہ السلام) کے خطبات کے اقتباسات ١۔ اے میری قوم اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس لیے صرف اسی کی عبادت کرو۔ (الاعراف : ٧٣) ٢۔ اے میری قوم تمھیں عاد کے بعد اس دنیا میں بھیجا گیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ (الاعراف : ٧٤) ٣۔ اے میری قوم اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاکر اس کا شکر ادا کرو۔ (الاعراف : ٧٤) قوم صالح کی خصوصیات و عادات : ١۔ قوم صالح اللہ کے ساتھ شرک کیا کرتی تھیں۔ (ھود : ٦٢۔ ٦١) ٢۔ ثمود انبیاء کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ (الشعراء : ١٤١) ٣۔ وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بنایا کرتے تھے۔ (الاعراف : ٧٤) ٤۔ وہ نرم زمین پر بھی بڑے بڑے محلات تعمیر کیا کرتے تھے۔ (الاعراف : ٧٤) ٥۔ وہ لوگ بہت زیادہ اسراف، تکبر اور زمین میں فساد کرنے والے تھے۔ (الشعراء : ١٥٢، ١٥١) ٦۔ قوم ثمود ہدایت کے بجائے گمراہی کو پسند کرتی تھی۔ (حٰم السجدۃ: ١٧) ٧۔ انھوں نے اللہ کی نشانی کو جھٹلایا۔ (ھود : ٦٦) قوم کے جواب اور الزامات : ١۔ اے صالح ہم تو تجھے بہت اچھا سمجھتے تھے مگر تو ہمارے آباؤ اجداد کو گمراہ قرار دیتا ہے۔ (ھود : ٦٢) ٢۔ کیا تو ہمیں ان کاموں سے روکتا ہے جو ہمارے بزرگ کرتے چلے آئے ہیں۔ (ھود : ٦٢) ٣۔ ہم تمھیں اور تمھارے ساتھیوں کو منحوس سمجھتے ہیں۔ (النمل : ٧٤) ٤۔ کیا ہم اپنے بزرگوں، آباؤ اجداد کے مذہب کو چھوڑ کر صرف تمھاری پیروی کریں۔ (القمر : ٢٤) ٥۔ صالح تو بہت بڑا جھوٹا اور بڑائی بکھیرنے والا ہے۔ (القمر : ٢٥) ٦۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے۔ (الشعراء : ١٥٣) پیغمبر کا جواب اور قوم کو مزید سمجھانا : ١۔ اے میری قوم اللہ سے ڈر جاؤ اور میری باتوں پر غور کرو۔ (الشعراء : ١٤٤) ٢۔ میں اللہ کے احکام سنانے کے لیے تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ (الشعراء : ١٤٥) ٣۔ اے میری قوم میں واقعی اپنے رب کی طرف سے مبعوث ہوں۔ (ھود : ٦٣) ٤۔ اے قوم یہ اونٹنی اللہ کی طرف سے معجزہ ہے اس کے ساتھ زیادتی نہ کرنا۔ (ھود : ٦٤) ٥۔ میں تمھیں وعظ و نصیحت کرتا ہوں جب کہ تم خیر خواہوں کو ناپسند کرتے ہو۔ (الاعراف : ٧٩) قوم کی ہٹ دھرمی اور عذاب کا مطالبہ : ١۔ انھوں نے قسمیں اٹھائیں کہ حضرت صالح کو اہل وعیال سمیت ختم کردیں گے۔ (النمل : ٤٩) ٢۔ قوم نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ (القمر : ٢٩) ٣۔ اے صالح ! ہم تمھارے عقیدے کا انکار کرتے رہیں گے۔ (الاعراف : ٧٦) ٤۔ اے صالح! تو جس چیز سے ہمیں ڈراتا ہے وہ لے آ۔ (الاعراف : ٧٧) عذاب کا وقت اور اس کی تباہ کاری : ١۔ قوم ثمود کو صبح کے وقت ہولناک دھماکے نے آلیا اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی۔ (الحجر ٨٣۔ ٨٤) ٢۔ قوم ثمود کو تین دن کی مہلت دی گئی۔ (ھود : ٤٥) ٣۔ ہم نے ان پر ہولناک چیخ نازل کی وہ ایسے ہوگئے جیسے بوسیدہ اور سوکھی ہوئی باڑ ہوتی ہے۔ (القمر : ٣١) حضرت صالح (علیہ السلام) کا اظہار افسوس : ١۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے ناامید ہو کر فرمایا اے میری قوم میں نے تم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تمھاری خیر خواہی کی لیکن تم خیر خواہی کو پسند کرنے والے نہیں۔ (الاعراف : ٧٩) تفسیر بالقرآن حضرت صالح (علیہ السلام) کابیان : ١۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بناکر بھیجا۔ ( ھود : ٦١) ٢۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلایا۔ (الاعراف : ٧٣) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی کی صورت میں معجزہ عطا فرمایا۔ ٤۔ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو کمزور جانا (ھود : ٦٢) حضرت صالح (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں ٦ بار تذکرہ ہوا ہے۔ ٣۔ ہم تمھیں اور تمھارے ساتھیوں کو منحوس سمجھتے ہیں۔ (النمل : ٧٤) ٤۔ کیا ہم اپنے بزرگوں، آباؤ اجداد کے مذہب کو چھوڑ کر صرف تمھاری پیروی کریں۔ (القمر : ٢٤) ٥۔ صالح تو بہت بڑا جھوٹا اور بڑائی بکھیرنے والا ہے۔ (القمر : ٢٥) ٦۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے۔ (الشعراء : ١٥٣) پیغمبر کا جواب اور قوم کو مزید سمجھانا : ١۔ اے میری قوم اللہ سے ڈر جاؤ اور میری باتوں پر غور کرو۔ (الشعراء : ١٤٤) ٢۔ میں اللہ کے احکام سنانے کے لیے تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ (الشعراء : ١٤٥) ٣۔ اے میری قوم میں واقعی اپنے رب کی طرف سے مبعوث ہوں۔ (ھود : ٦٣) ٤۔ اے قوم یہ اونٹنی اللہ کی طرف سے معجزہ ہے اس کے ساتھ زیادتی نہ کرنا۔ (ھود : ٦٤) ٥۔ میں تمھیں وعظ و نصیحت کرتا ہوں جب کہ تم خیر خواہوں کو ناپسند کرتے ہو۔ (الاعراف : ٧٩) قوم کی ہٹ دھرمی اور عذاب کا مطالبہ : ١۔ انھوں نے قسمیں اٹھائیں کہ حضرت صالح کو اہل وعیال سمیت ختم کردیں گے۔ (النمل : ٤٩) ٢۔ قوم نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ (القمر : ٢٩) ٣۔ اے صالح ! ہم تمھارے عقیدے کا انکار کرتے رہیں گے۔ (الاعراف : ٧٦) ٤۔ اے صالح! تو جس چیز سے ہمیں ڈراتا ہے وہ لے آ۔ (الاعراف : ٧٧) عذاب کا وقت اور اس کی تباہ کاری : ١۔ قوم ثمود کو صبح کے وقت ہولناک دھماکے نے آلیا اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی۔ (الحجر ٨٣۔ ٨٤) ٢۔ قوم ثمود کو تین دن کی مہلت دی گئی۔ (ھود : ٤٥) ٣۔ ہم نے ان پر ہولناک چیخ نازل کی وہ ایسے ہوگئے جیسے بوسیدہ اور سوکھی ہوئی باڑ ہوتی ہے۔ (القمر : ٣١) حضرت صالح (علیہ السلام) کا اظہار افسوس : ١۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے ناامید ہو کر فرمایا اے میری قوم میں نے تم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تمھاری خیر خواہی کی لیکن تم خیر خواہی کو پسند کرنے والے نہیں۔ (الاعراف : ٧٩) تفسیر بالقرآن حضرت صالح (علیہ السلام) کابیان : ١۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بناکر بھیجا۔ ( ھود : ٦١) ٢۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلایا۔ (الاعراف : ٧٣) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی کی صورت میں معجزہ عطا فرمایا۔ ٤۔ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو کمزور جانا (ھود : ٦٢) حضرت صالح (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں ٦ بار تذکرہ ہوا ہے۔ ٣۔ ہم تمھیں اور تمھارے ساتھیوں کو منحوس سمجھتے ہیں۔ (النمل : ٧٤) ٤۔ کیا ہم اپنے بزرگوں، آباؤ اجداد کے مذہب کو چھوڑ کر صرف تمھاری پیروی کریں۔ (القمر : ٢٤) ٥۔ صالح تو بہت بڑا جھوٹا اور بڑائی بکھیرنے والا ہے۔ (القمر : ٢٥) ٦۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے۔ (الشعراء : ١٥٣) پیغمبر کا جواب اور قوم کو مزید سمجھانا : ١۔ اے میری قوم اللہ سے ڈر جاؤ اور میری باتوں پر غور کرو۔ (الشعراء : ١٤٤) ٢۔ میں اللہ کے احکام سنانے کے لیے تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ (الشعراء : ١٤٥) ٣۔ اے میری قوم میں واقعی اپنے رب کی طرف سے مبعوث ہوں۔ (ھود : ٦٣) ٤۔ اے قوم یہ اونٹنی اللہ کی طرف سے معجزہ ہے اس کے ساتھ زیادتی نہ کرنا۔ (ھود : ٦٤) ٥۔ میں تمھیں وعظ و نصیحت کرتا ہوں جب کہ تم خیر خواہوں کو ناپسند کرتے ہو۔ (الاعراف : ٧٩) قوم کی ہٹ دھرمی اور عذاب کا مطالبہ : ١۔ انھوں نے قسمیں اٹھائیں کہ حضرت صالح کو اہل وعیال سمیت ختم کردیں گے۔ (النمل : ٤٩) ٢۔ قوم نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ (القمر : ٢٩) ٣۔ اے صالح ! ہم تمھارے عقیدے کا انکار کرتے رہیں گے۔ (الاعراف : ٧٦) ٤۔ اے صالح! تو جس چیز سے ہمیں ڈراتا ہے وہ لے آ۔ (الاعراف : ٧٧) عذاب کا وقت اور اس کی تباہ کاری : ١۔ قوم ثمود کو صبح کے وقت ہولناک دھماکے نے آلیا اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی۔ (الحجر ٨٣۔ ٨٤) ٢۔ قوم ثمود کو تین دن کی مہلت دی گئی۔ (ھود : ٤٥) ٣۔ ہم نے ان پر ہولناک چیخ نازل کی وہ ایسے ہوگئے جیسے بوسیدہ اور سوکھی ہوئی باڑ ہوتی ہے۔ (القمر : ٣١) حضرت صالح (علیہ السلام) کا اظہار افسوس : ١۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے ناامید ہو کر فرمایا اے میری قوم میں نے تم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تمھاری خیر خواہی کی لیکن تم خیر خواہی کو پسند کرنے والے نہیں۔ (الاعراف : ٧٩) تفسیر بالقرآن حضرت صالح (علیہ السلام) کابیان : ١۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بناکر بھیجا۔ ( ھود : ٦١) ٢۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلایا۔ (الاعراف : ٧٣) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی کی صورت میں معجزہ عطا فرمایا۔ ٤۔ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو کمزور جانا (ھود : ٦٢) حضرت صالح (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں ٦ بار تذکرہ ہوا ہے۔