ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ ۖ مِّنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ ۗ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الْأُنثَيَيْنِ ۖ نَبِّئُونِي بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
آٹھ قسمیں، بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو۔ کہہ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ؟ یا وہ (بچہ) جس پر دونوں ماداؤں کے رحم لپٹے ہوئے ہیں؟ مجھے کسی علم کے ساتھ بتاؤ، اگر تم سچے ہو۔
ف 7 یہ زوج کی جمع ہے عربی زبان میں کسی جوڑے کے ہر فرد کو زوج کہا جاتا ہے اور اس میں تذکیر و تانیث کا اعتبار نہیں ہوتا پس ثَمَٰنِيَةَ أَزۡوَٰجٖکے معنی آٹھ افراد کے ہیں اور آیت میں ترجمہ بھی اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ ف8 مردی ہے کہ جب مالک بن عوف اور اس کے ساتھیوں نے یہ کہا کہ’’ مافی بطون ھذہ الا نعام خالصتہ لذکورناو محرم علی ٰ ازواجنا ‘‘ تو ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائ۔(قرطبی) یعنی یہ جانور حرام کیسے ہو سکتے ہیں ؟ اگر نر حرام ہے تو سب نر حرام ہونگے۔اگر مادہ حرام ہے تو سب مادائیں حرام ہوں گی اور اگر بچہ حرام ہے جوپیٹ میں رہ چکا ہے تو نر اور مادہ دونوں حرام ہوں گے۔ مقصود مشرکین کے خود ساختہ محرمات کی تردید ہے کہ بحیرہ سائبہ جانوروں کو انہوں نے اپنی طرف سے حرام کر رکھا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ جانور حلال کئے ہیں۔