سورة آل عمران - آیت 17

الصَّابِرِينَ وَالصَّادِقِينَ وَالْقَانِتِينَ وَالْمُنفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

جو صبر کرنے والے اور سچ کہنے والے اور حکم ماننے والے اور خرچ کرنے والے اور رات کی آخری گھڑیوں میں بخشش مانگنے والے ہیں۔

تفسیر اشرف الحواشی - محمد عبدہ الفلاح

ف 1 یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری اور اس کے محرمات سے پرہیز مشقت اٹھانے والے۔ ف 2 اس آیت سے خاص طور پر سحر (پچھلی رات) کے وقت استغفار کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ کتب احادیث میں متعدد صحابی سے یہ روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : جب رات کایک تہائی یا نصف باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ پہلے آسمان سے پر اتر کر یہ فرماتے ہیں ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اس کو دوں؟ ہے کو دعا کرنے والا میں اس کی دعا قبول کروں ؟ ہے کوئی استغفار کرنے والا میں اس کی مغفرت کروں؟ اور ہر رات پکار کر یہی پوچھا جاتا ہے۔ ابن کثیر )