جامع الترمذي - حدیث 841

أَبْوَابُ الحَجِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ تَزْوِيجِ الْمُحْرِمِ​ ضعيف حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلَالٌ وَبَنَى بِهَا وَهُوَ حَلَالٌ وَكُنْتُ أَنَا الرَّسُولَ فِيمَا بَيْنَهُمَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ عَنْ رَبِيعَةَ وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ رَبِيعَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلَالٌ رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا قَالَ وَرَوَاهُ أَيْضًا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ رَبِيعَةَ مُرْسَلًا قَالَ أَبُو عِيسَى وَرُوِي عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَلَالٌ وَيَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ هُوَ ابْنُ أُخْتِ مَيْمُونَةَ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 841

کتاب: حج کے احکام ومسائل حالت احرام میں محرم کی شادی کرانے کی حرمت کابیان​ ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے میمونہ سے نکاح کیا اور آپ حلال تھے پھران کے خلوت میں گئے تب بھی آپ حلال تھے، اور میں ہی آپ دونوں کے درمیان پیغام رساں تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے،۲- اورہم حمادبن زیدکے علاوہ کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے اسے مطرورّاق کے واسطے سے ربیعہ سے مسنداً روایت کیاہو، ۳- اورمالک بن انس نے ربیعہ سے، اورربیعہ نے سلیمان بن یسار سے روایت کی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے میمونہ سے شادی کی اور آپ حلال تھے۔اسے مالک نے مرسلا ً روایت کیا ہے، اور سلیمان بن ہلال نے بھی اسے ربیعہ سے مرسلا ً روایت کیا ہے، ۴- یزید بن اصم ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے شادی کی اور آپ حلال تھے یعنی محرم نہیں تھے۔یزید بن اصم میمونہ کے بھانجے ہیں۔
تشریح : نوٹ:(اس کا آخری ٹکڑا میں 'أنا الرسول بينهما'میں دونوں کے درمیان قاصدتھا)، ضعیف ہے کیونکہ اس سے قوی روایت میں ہے کہ 'عباس رضی اللہ عنہ ' نے یہ شادی کرائی تھی ، اس کے راوی 'مطرالوراق'حافظے کے ضعیف ہیں ، اس روایت کا مرسل ہونا ہی زیادہ صحیح ہے ، اس کا پہلا ٹکڑا حدیث رقم: ۸۴۵کے طریق سے صحیح ہے) نوٹ:(اس کا آخری ٹکڑا میں 'أنا الرسول بينهما'میں دونوں کے درمیان قاصدتھا)، ضعیف ہے کیونکہ اس سے قوی روایت میں ہے کہ 'عباس رضی اللہ عنہ ' نے یہ شادی کرائی تھی ، اس کے راوی 'مطرالوراق'حافظے کے ضعیف ہیں ، اس روایت کا مرسل ہونا ہی زیادہ صحیح ہے ، اس کا پہلا ٹکڑا حدیث رقم: ۸۴۵کے طریق سے صحیح ہے)