أَبْوَابُ الصَّوْمِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الصَّوْمِ فِي النِّصْفِ الثَّانِي مِنْ شَعْبَانَ لِحَالِ رَمَضَانَ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَقِيَ نِصْفٌ مِنْ شَعْبَانَ فَلَا تَصُومُوا قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ مُفْطِرًا فَإِذَا بَقِيَ مِنْ شَعْبَانَ شَيْءٌ أَخَذَ فِي الصَّوْمِ لِحَالِ شَهْرِ رَمَضَانَ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُشْبِهُ قَوْلَهُمْ حَيْثُ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقَدَّمُوا شَهْرَ رَمَضَانَ بِصِيَامٍ إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ ذَلِكَ صَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ وَقَدْ دَلَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّمَا الْكَرَاهِيَةُ عَلَى مَنْ يَتَعَمَّدُ الصِّيَامَ لِحَالِ رَمَضَانَ
کتاب: روزے کے احکام ومسائل
رمضان کی تعظیم میں شعبان کے دوسرے نصف میں صوم رکھنے کی کراہت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: 'جب آدھا شعبان رہ جائے تو صوم نہ رکھو' ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم اسے ان الفاظ کے ساتھ صرف اسی طریق سے جانتے ہیں،۲- اوراس حدیث کا مفہوم بعض اہل علم کے نزدیک یہ ہے کہ آدمی پہلے سے صوم نہ رکھ رہاہو، پھر جب شعبان ختم ہونے کے کچھ دن باقی رہ جائیں توماہ رمضان کی تعظیم میں صوم رکھنا شروع کردے۔نیزابوہریرہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرمﷺ سے وہ چیزیں روایت کی ہے جو ان لوگوں کے قول سے ملتاجلتاہے جیساکہ آپ ﷺ نے فرمایا : 'ماہ رمضان کے استقبال میں پہلے سے صوم نہ رکھو' اس کے کہ ان ایام میں کوئی ایسا صوم پڑجائے جسے تم پہلے سے رکھتے آ رہے ہو۔
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کراہت اس شخص کے لئے ہے جوعمداً رمضان کی تعظیم میں صوم رکھے۔
تشریح :
۱؎ : شعبان کے نصف ثانی میں صوم رکھنے کی ممانعت امت کو اس لیے ہے تاکہ رمضان کے صیام کے لیے قوّت وتوانائی برقراررہے، رہے نبی اکرمﷺاس ممانعت میں داخل نہیں اس لیے کہ آپ کے بارے میں آتاہے کہ آپ شعبان کے صیام کو رمضان سے ملا لیاکرتے تھے چونکہ آپ کو روحانی قوت حاصل تھی اس لیے صوم آپ کے لیے کمزوری کا سبب نہیں بنتاتھا۔
۱؎ : شعبان کے نصف ثانی میں صوم رکھنے کی ممانعت امت کو اس لیے ہے تاکہ رمضان کے صیام کے لیے قوّت وتوانائی برقراررہے، رہے نبی اکرمﷺاس ممانعت میں داخل نہیں اس لیے کہ آپ کے بارے میں آتاہے کہ آپ شعبان کے صیام کو رمضان سے ملا لیاکرتے تھے چونکہ آپ کو روحانی قوت حاصل تھی اس لیے صوم آپ کے لیے کمزوری کا سبب نہیں بنتاتھا۔