جامع الترمذي - حدیث 562

أَبْوَابُ السَّفَرِ بَاب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْقِرَائَةِ فِي الْكُسُوفِ​ ضعيف حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عِبَادٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفٍ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 562

کتاب: سفر کے احکام ومسائل گرہن کی صلاۃ میں قرأت کا طریقہ​ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے ہمیں گرہن کی صلاۃ پڑھائی توہم آپ کی آوازنہیں سن پارہے تھے ۱؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں۔ اور یہی شافعی کا بھی قول ہے۔
تشریح : ۱؎ : ایک تویہ حدیث ضعیف ہے ، دوسرے'آواز نہیں سننا'اس لیے بھی ہوسکتاہے کہ سمرہ رضی اللہ عنہ آپﷺ سے دور کھڑے ہوں۔ نوٹ:(سندمیں 'ثعلبہ' لین الحدیث ہیں) ۱؎ : ایک تویہ حدیث ضعیف ہے ، دوسرے'آواز نہیں سننا'اس لیے بھی ہوسکتاہے کہ سمرہ رضی اللہ عنہ آپﷺ سے دور کھڑے ہوں۔ نوٹ:(سندمیں 'ثعلبہ' لین الحدیث ہیں)