جامع الترمذي - حدیث 544

أَبْوَابُ السَّفَرِ بَاب مَا جَاءَ فِي التَّقْصِيرِ فِي السَّفَرِ​ صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَكَانُوا يُصَلُّونَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ لَا يُصَلُّونَ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا و قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كُنْتُ مُصَلِّيًا قَبْلَهَا أَوْ بَعْدَهَا لَأَتْمَمْتُهَا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَنَسٍ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَعَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ مِثْلَ هَذَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ سُرَاقَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَطَوَّعُ فِي السَّفَرِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَبَعْدَهَا وَقَدْ صَحَّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقْصُرُ فِي السَّفَرِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تُتِمُّ الصَّلَاةَ فِي السَّفَرِ وَالْعَمَلُ عَلَى مَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ إِلَّا أَنَّ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ التَّقْصِيرُ رُخْصَةٌ لَهُ فِي السَّفَرِ فَإِنْ أَتَمَّ الصَّلَاةَ أَجْزَأَ عَنْهُ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 544

کتاب: سفر کے احکام ومسائل سفر میں قصرصلاۃ پڑھنے کا بیان​ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرمﷺ ، ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ سفر کیا، یہ لوگ ظہر اور عصر دو دو رکعت پڑھتے تھے۔ نہ اس سے پہلے کوئی صلاۃ پڑھتے اور نہ اس کے بعد۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اگر میں اس سے پہلے یا اس کے بعد(سنت) صلاۃ پڑھتا تو میں ا نہی (فرائض ) کو پوری پڑھتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اس طرح یحییٰ بن سلیم ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: یہ حدیث بطریق:'عَنْ عُبَیْدِاللہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ سُرَاقَۃَ عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ عُمَرَ ' بھی مروی ہے، ۳- اور عطیہ عوفی ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سفرمیں صلاۃ سے پہلے اور اس کے بعد نفل پڑھتے تھے ۱؎ ،۴- اس باب میں عمر، علی، ابن عباس، انس، عمران بن حصین اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۵- نبی اکرمﷺ سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ اورابوبکروعمر سفر میں قصر کرتے تھے اور عثمان بھی اپنی خلافت کے شروع میں قصرکرتے تھے، ۶- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، ۷- اورعائشہ سے مروی ہے کہ وہ سفر میں صلاۃ پوری پڑھتی تھیں ۲؎ ، ۸- اورعمل اسی پرہے جو نبی اکرمﷺ اور صحابہ کرام سے مروی ہے، یہی شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، البتہ شافعی کہتے ہیں کہ سفرمیں قصر کرنا رخصت ہے، اگر کوئی پوری صلاۃ پڑھ لے تو جائز ہے۔
تشریح : ۱؎ : یہ حدیث ۵۵۱پرمولف کے یہاں آرہی ہے ، اورضعیف ومنکرہے۔ ۲؎ : یہ صحیح بخاری کی روایت ہے، اوربیہقی کی روایت ہے کہ انہوں نے سبب یہ بیان کیا کہ پوری پڑھنی میرے لیے شاق نہیں ہے،گویاسفرمیں قصررخصت ہے اوراتمام جائزہے، اوریہی راجح قول ہے۔رخصت کے اختیارمیں سنت پرعمل اوراللہ کی رضا حاصل ہوتے ہیں۔ ۱؎ : یہ حدیث ۵۵۱پرمولف کے یہاں آرہی ہے ، اورضعیف ومنکرہے۔ ۲؎ : یہ صحیح بخاری کی روایت ہے، اوربیہقی کی روایت ہے کہ انہوں نے سبب یہ بیان کیا کہ پوری پڑھنی میرے لیے شاق نہیں ہے،گویاسفرمیں قصررخصت ہے اوراتمام جائزہے، اوریہی راجح قول ہے۔رخصت کے اختیارمیں سنت پرعمل اوراللہ کی رضا حاصل ہوتے ہیں۔