جامع الترمذي - حدیث 464

أَبْوَابُ الوِتْرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِي الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ​ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ قَالَ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ وَاسْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ شَيْبَانَ وَلَا نَعْرِفُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ فَرَأَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ الْقُنُوتَ فِي الْوِتْرِ فِي السَّنَةِ كُلِّهَا وَاخْتَارَ الْقُنُوتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَإِسْحَقُ وَأَهْلُ الْكُوفَةِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَقْنُتُ إِلَّا فِي النِّصْفِ الْآخِرِ مِنْ رَمَضَانَ وَكَانَ يَقْنُتُ بَعْدَ الرُّكُوعِ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 464

کتاب: صلاۃِ وترکے احکام و مسائل صلاۃِ وتر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان​ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہﷺنے یہ کلمات سکھائے جنہیں میں وتر میں پڑھاکروں، وہ کلمات یہ ہیں: <اللَّہُمَّ اہْدِنِی فِیمَنْ ہَدَیْتَ، وَعَافِنِی فِیمَنْ عَافَیْتَ، وَتَوَلَّنِی فِیمَنْ تَوَلَّیْتَ، وَبَارِکْ لِی فِیمَا أَعْطَیْتَ، وَقِنِی شَرَّ مَا قَضَیْتَ، فَإِنَّکَ تَقْضِی وَلاَ یُقْضَی عَلَیْکَ، وَإِنَّہُ لاَیَذِلُّ مَنْ وَالَیْتَ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ >(اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرماجنہیں تونے ہدایت سے نوازاہے،مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرماجنہیں تو نے عافیت بخشی ہے، میری سرپرستی فرماکر، ان لوگوں میں شامل فرماجن کی تونے سرپرستی کی ہے، اورجوکچھ تو نے مجھے عطافرمایا ہے اس میں برکت عطافرما،اورجس شرکا تونے فیصلہ فرمادیا ہے اس سے مجھے محفوظ رکھ، یقینا فیصلہ توہی صادرفرماتا ہے،تیرے خلاف فیصلہ صادرنہیں کیا جاسکتا،اورجس کا تووالی ہووہ کبھی ذلیل وخوارنہیں ہوسکتا، اے ہمارے رب! توبہت برکت والا اور بہت بلند وبالاہے۔) امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن ہے،۲- اسے ہم صرف اسی سند سے یعنی ابوالحوراء سعدی کی روایت سے جانتے ہیں، ان کا نام ربیعہ بن شیبان ہے،۳- میرے علم میں وتر کے قنوت کے سلسلے میں اس سے بہتر کوئی اور چیز نبی اکرمﷺسے مروی ہو معلوم نہیں،۴- اس باب میں علی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے، ۵- اہل علم کا وتر کے قنوت میں اختلاف ہے۔عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ وتر میں قنوت پورے سال ہے، اور انہوں نے رکوع سے پہلے قنوت پڑھنا پسند کیاہے، اوریہی بعض اہل علم کا قول ہے سفیان ثوری ،ابن مبارک ، اسحاق اور اہل کوفہ بھی یہی کہتے ہیں،۶- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ صرف رمضان کے نصف آخر میں قنوت پڑھتے تھے، اور رکوع کے بعد پڑھتے تھے،۷- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، شافعی اور احمدبھی یہی کہتے ہیں ۱؎ ۔
تشریح : ۱؎ : وترکی اہمیت ،اور اس کی مشروعیت کے سبب اس کے وقت ، اورطریقہ نیزنبی اکرمﷺکی وترکے بارے میں جو روایات واردہیں ان سب سے یہی ثابت ہوتا ہے ، کہ صلاۃِوترپورا سال اورہر روزہے ، اورقنوت وترکے بارے میں تحقیقی بات یہی ہے کہ وہ رکوع سے پہلے افضل ہے، اور قنوت نازلہ رکوع کے بعدہے۔ ۱؎ : وترکی اہمیت ،اور اس کی مشروعیت کے سبب اس کے وقت ، اورطریقہ نیزنبی اکرمﷺکی وترکے بارے میں جو روایات واردہیں ان سب سے یہی ثابت ہوتا ہے ، کہ صلاۃِوترپورا سال اورہر روزہے ، اورقنوت وترکے بارے میں تحقیقی بات یہی ہے کہ وہ رکوع سے پہلے افضل ہے، اور قنوت نازلہ رکوع کے بعدہے۔