جامع الترمذي - حدیث 445

أَبْوَابُ الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مِنْهُ​ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يُصَلِّ مِنْ اللَّيْلِ مَنَعَهُ مِنْ ذَلِكَ النَّوْمُ أَوْ غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ صَلَّى مِنْ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَعْدُ بْنُ هِشَامٍ هُوَ ابْنُ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيُّ وَهِشَامُ بْنُ عَامِرٍ هُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ الْمُثَنَّى عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ كَانَ زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى قَاضِيَ الْبَصْرَةِ وَكَانَ يَؤُمُّ فِي بَنِي قُشَيْرٍ فَقَرَأَ يَوْمًا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ فَذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ خَرَّ مَيِّتًا فَكُنْتُ فِيمَنْ احْتَمَلَهُ إِلَى دَارِهِ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 445

کتاب: مسنون ادعیہ واذکار کے بیان میں سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب​ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرمﷺجب راتمیں تہجدنہیں پڑھ پاتے تھے اور نینداس میں رکاوٹ بن جاتی یا آپ پر نیندکا غلبہ ہوجاتا تو دن میں(اس کے بدلہ میں) بارہ رکعتیں پڑھتے ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲- سعد بن ہشام ہی ابن عامر انصاری ہیں اور ہشام بن عامر نبی اکرمﷺ کے اصحاب میں سے ہیں۔بہز بن حکیم سے روایت ہے کہ زرارہ بن اوفیٰ بصرہ کے قاضی تھے۔ وہ بنی قشیر کی امامت کرتے تھے،انہوں نے ایک دن فجر میں آیت کریمہ {فَإِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُورِ فَذَلِکَ یَوْمَئِذٍ یَوْمٌ عَسِیرٌ} (جب صور پھونکا جائے گا تو وہ دن سخت دن ہوگا)پڑھی تووہ بے ہوش ہوکر گرپڑے اور مرگئے۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھاجو انہیں اٹھاکر ان کے گھر لے گئے۔
تشریح : ۱؎ : صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:جس کی رات کی نفل( صلاۃِتہجد)قضاہوجائے ، اوروہ انہیں طلوع فجر اور ظہرکے بیچ پڑھ لے توغافلوں میں نہیں لکھاجائے گا ،شایدبارہ کبھی اس لیے پڑھی ہوگی کہ وتراس رات عشاء کے بعدہی پڑھ چکے ہوں گے ، اوروتر دوبارنہیں پڑھی جاتی، یاجس رات میں یہ اندازہ ہوتاکہ پوری گیارہ رکعتیں آج نہیں پڑھ پاوں گا اس رات وتررات ہی پڑھ لیتے ہوں گے یا یہ ہے کہ آپ ﷺ جب دن کے وقت بارہ رکعت پڑھتے تھے تو وترکو جُفت کرلیتے ہوں گے، واللہ اعلم۔ ۱؎ : صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:جس کی رات کی نفل( صلاۃِتہجد)قضاہوجائے ، اوروہ انہیں طلوع فجر اور ظہرکے بیچ پڑھ لے توغافلوں میں نہیں لکھاجائے گا ،شایدبارہ کبھی اس لیے پڑھی ہوگی کہ وتراس رات عشاء کے بعدہی پڑھ چکے ہوں گے ، اوروتر دوبارنہیں پڑھی جاتی، یاجس رات میں یہ اندازہ ہوتاکہ پوری گیارہ رکعتیں آج نہیں پڑھ پاوں گا اس رات وتررات ہی پڑھ لیتے ہوں گے یا یہ ہے کہ آپ ﷺ جب دن کے وقت بارہ رکعت پڑھتے تھے تو وترکو جُفت کرلیتے ہوں گے، واللہ اعلم۔