جامع الترمذي - حدیث 3647

أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ باب قول ابن سمرۃ:کان فی ساق رسول اللہﷺ حموشۃ... صحيح حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبِ قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لِسِمَاكٍ مَا ضَلِيعُ الْفَمِ قَالَ وَاسِعُ الْفَمِ قُلْتُ مَا أَشْكَلُ الْعَيْنَيْنِ قَالَ طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ قَالَ قُلْتُ مَا مَنْهُوشُ الْعَقِبِ قَالَ قَلِيلُ اللَّحْمِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 3647

کتاب: فضائل و مناقب کے بیان میں ابن سمرہ ؓ کا قول کہ رسول اللہﷺ کی دونوں پنڈلیوں میں باریکی تھی جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ کشادہ منہ والے تھے، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک سے پوچھا :' ضَلِیعُ الْفَمِ' کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس کے معنی کشادہ منہ کے ہیں، میں نے پوچھا ' اشکل العین ' کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس کے معنی بڑی آنکھ والے کے ہیں،وہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: ' مَنْہُوشُ الْعَقِبِ' کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: کم گوشت کے ہیں۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔