جامع الترمذي - حدیث 360

أَبْوَابُ الصَّلاَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِيمَنْ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ​ حسن حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو غَالِبٍ قَال سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ آذَانَهُمْ الْعَبْدُ الْآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ وَإِمَامُ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَأَبُو غَالِبٍ اسْمُهُ حَزَوَّرٌ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 360

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل جوکسی قوم کی امامت کرے، اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں​ ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ( ﷺ )نے فرمایا: 'تین لوگوں کی صلاۃان کے کانوں سے اوپر نہیں جاتی: ایک بھگوڑے غلام کی جب تک کہ وہ(اپنے مالک کے پاس) لوٹ نہ آئے، دوسرے عورت کی جورات گزارے اور اس کا شوہر اس سے ناراض ہو، تیسرے اس امام کی جسے لوگ ناپسند کرتے ہوں'۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔