أَبْوَابُ الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مِنْهُ دعاء سَيِّدِ الاِسْتِغْفَار صحيح حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى سَيِّدِ الِاسْتِغْفَارِ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ وَأَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ وَأَعْتَرِفُ بِذُنُوبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ لَا يَقُولُهَا أَحَدُكُمْ حِينَ يُمْسِي فَيَأْتِي عَلَيْهِ قَدَرٌ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَلَا يَقُولُهَا حِينَ يُصْبِحُ فَيَأْتِي عَلَيْهِ قَدَرٌ قَبْلَ أَنْ يُمْسِيَ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ أَبْزَى وَبُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ هُوَ ابْنُ أَبِي حَازِمٍ الزَّاهِدُ
کتاب: مسنون ادعیہ واذکار کے بیان میں سب استغفاروں کا سردار شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا:' کیامیں تمہیں 'سید الإستغفار'(طلبِ مغفرت کی دعاؤں میں سب سے اہم دعا) نہ بتاؤں؟ (وہ یہ ہے) : 'اللَّہُمَّ أَنْتَ رَبِّی لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ خَلَقْتَنِی وَأَنَا عَبْدُکَ وَأَنَا عَلَی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ وَأَبُوئُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَأَعْتَرِفُ بِذُنُوبِی فَاغْفِرْ لِی ذُنُوبِی إِنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ' ۱؎ ۔ شداد کہتے ہیں : آپ نے فرمایا:' یہ دعا تم میں سے کوئی بھی شام کو پڑھتا ہے او ر صبح ہونے سے پہلے ہی اس پر ' قدر' (موت) آجاتی ہے تو جنت اس کے لیے واجب ہوجاتی ہے، اور کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جو اس دعا کو صبح کے وقت پڑھے اور شام ہونے سے پہلے اسے ' قدر' (موت) آجائے مگر یہ کہ جنت اس پر واجب ہوجاتی ہے'۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث اس سندسے حسن غریب ہے،۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے آئی ہے،۳- اس باب میں ابوہریرہ ، ابن عمر، ابن مسعود ، ابن ابزی اور بریدہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔