جامع الترمذي - حدیث 3364

أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب وَمِنْ سُورَةِ الإِخْلاصِ​ حسن حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ هُوَ الصَّغَانِيُّ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْسُبْ لَنَا رَبَّكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ وَالصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ لَأَنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ يُولَدُ إِلَّا سَيَمُوتُ وَلَا شَيْءٌ يَمُوتُ إِلَّا سَيُورَثُ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمُوتُ وَلَا يُورَثُ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ قَالَ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَبِيهٌ وَلَا عِدْلٌ وَلَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ عَنْ الرَّبِيعِ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ آلِهَتَهُمْ فَقَالُوا انْسُبْ لَنَا رَبَّكَ قَالَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ بِهَذِهِ السُّورَةِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعْدٍ وَأَبُو سَعْدٍ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسَّرٍ وَأَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ اسْمُهُ عِيسَى وَأَبُو الْعَالِيَةِ اسْمُهُ رُفَيْعٌ وَكَانَ عَبْدًا أَعْتَقَتْهُ امْرَأَةٌ سَابِيَةٌ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 3364

کتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں سورہ اخلاص سے بعض آیات کی تفسیر​ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مشرکین نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: آپ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے { قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ اللَّہُ الصَّمَدُ } ۱؎ نازل فرمائی، اور صمد وہ ہے جو نہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس سے کوئی پیدا ہواہو، - اس لیے (اصول یہ ہے کہ ) جو بھی کوئی چیز پیدا ہوگی وہ ضرور مرے گی اور جو بھی کوئی چیز مرے گی اس کا وارث ہو گا، اور اللہ عزوجل کی ذات ایسی ہے کہ نہ وہ مرے گی اور نہ ہی اس کاکوئی وارث ہو گا، {وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ} (اور نہ اس کا کوئی کفو (ہمسر) ہے، راوی کہتے ہیں: کفو یعنی اس کے مشابہ اور برابر کوئی نہیں ہے، اور نہ ہی اس جیسا کوئی ہے۔