أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب وَمِنْ سُورَةِ أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَمٍ الْأَشْعَرِيِّ قَال سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُسْأَلُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَعْنِي الْعَبْدَ مِنْ النَّعِيمِ أَنْ يُقَالَ لَهُ أَلَمْ نُصِحَّ لَكَ جِسْمَكَ وَنُرْوِيَكَ مِنْ الْمَاءِ الْبَارِدِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَالضَّحَّاكُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ وَيُقَالُ ابْنُ عَرْزَمٍ وَابْنُ عَرْزَمٍ أَصَحُّ
کتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں سورہ تکاثر سےبعض آیات کی تفسیر ضحاک بن عبدالرحمن بن عرزم اشعری کہتے ہیں: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:' قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جن نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا،(وہ یہ ہیں) اس سے کہا جائے گا: کیا میں نے تمہارے لیے تمہارے جسم کو تندرست اور ٹھیک ٹھاک نہ رکھا اور تمہیں ٹھنڈا پانی نہ پلاتا رہا؟'۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث غریب ہے،۲- ضحاک ، یہ بیٹے ہیں عبدالرحمن بن عرزب کے، اور انہیں ابن عرزم بھی کہا جاتاہے اور ابن عرزم کہنا زیادہ صحیح ہے۔