أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب وَمِنْ سُورَةِ أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ حسن حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنْ النَّعِيمِ قَالَ الزُّبَيْرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّ النَّعِيمِ نُسْأَلُ عَنْهُ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ قَالَ أَمَا إِنَّهُ سَيَكُونُ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ
کتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں سورہ تکاثر سےبعض آیات کی تفسیر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت {ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیمِ } نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھاجائے گا؟ وہ تو صرف یہی دوسیاہ چیزیں ہیں (ایک کھجور دوسرا پانی ) (ہمارا ) دشمن (سامنے) حاضر وموجود ہے اور ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر ہیں ۱؎ ۔آپ نے فرمایا:' (تمہیں ابھی معلوم نہیں) عنقریب ایسا ہوگا (کہ تمہارے پاس نعمتیں ہی نعمتیں ہوں گی) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث سے زیادہ صحیح میرے نزدیک ابن عیینہ کی وہ حدیث ہے جسے وہ محمد بن عمر سے روایت کرتے ہیں،(یعنی پچھلی روایت) سفیان بن عیینہ ابوبکر بن عیاش کے مقابلے میں حدیث کو زیادہ یادرکھنے اور زیادہ صحت کے ساتھ بیان کرنے والے ہیں۔