أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب وَمِنْ سُورَةِ الْقَدْرِ حسن حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ وَعَاصِمٍ هُوَ ابْنُ بَهْدَلَةَ سَمِعَا زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ وَزِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ يُكْنَى أَبَا مَرْيَمَ يَقُولُ قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ إِنَّ أَخَاكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَقَالَ يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَلَكِنَّهُ أَرَادَ أَنْ لَا يَتَّكِلَ النَّاسُ ثُمَّ حَلَفَ لَا يَسْتَثْنِي أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ قَالَ قُلْتُ لَهُ بِأَيِّ شَيْءٍ تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ قَالَ بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بِالْعَلَامَةِ أَنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ لَا شُعَاعَ لَهَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
کتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں سورہ قدر سے بعض آیات کی تفسیر زر بن حبیش (جن کی کنیت ابومریم ہے) کہتے ہیں: میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جو سال بھر (رات کو) کھڑے ہوکر صلاتیں پڑھتارہے وہ لیلۃ القدر پالے گا،ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ ابوعبدالرحمن کی مغفرت فرمائے ( ابوعبدالرحمن ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) انہیں معلوم ہے کہ شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں ہے اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ رمضان کی ستائیسویں (۲۷) رات ہے، لیکن وہ چاہتے تھے کی لوگ اسی ایک ستائیسویں( ۲۷) رات پر بھروسہ کرکے نہ بیٹھ رہیں کہ دوسری راتوں میں عبادت کرنے اور جاگنے سے باز آجائیں ، بغیر کسی استثناء کے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے قسم کھاکر کہا:(شب قدر) یہ (۲۷) رات ہی ہے، زربن حبیش کہتے ہیں : میں نے ان سے کہا: ابوالمنذر! آپ ایسا کس بنیاد پر کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس آیت اور نشانی کی بنا پر جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتائی ہے (یہاں راوی کو شک ہوگیا ہے کہ انہوں نے 'بالآیۃ' کا لفظ استعمال کیا یا ' بالعلامۃ' کا آپ نے علامت یہ بتائی (کہ ۲۷ویں شب کی صبح ) سورج طلوع تو ہوگا لیکن اس میں شعاع نہ ہوگی ۱؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔