أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب وَمِنْ سُورَةِ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَجَاءَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ أَلَمْ أَنْهَكَ عَنْ هَذَا أَلَمْ أَنْهَكَ عَنْ هَذَا أَلَمْ أَنْهَكَ عَنْ هَذَا فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَبَرَهُ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ إِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا بِهَا نَادٍ أَكْثَرُ مِنِّي فَأَنْزَلَ اللَّهُ فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَوَاللَّهِ لَوْ دَعَا نَادِيَهُ لَأَخَذَتْهُ زَبَانِيَةُ اللَّهِ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ وَفِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
کتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں سورہ اقرأ باسم ربک سے بعض آیات کی تفسیر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ صلاۃ پڑھ رہے تھے کہ ابوجہل آگیا، اس نے کہا: میں نے تمہیں اس (صلاۃ) سے منع نہیں کیا تھا؟ کیا میں نے تجھے اس (صلاۃ ) سے منع نہیں کیا تھا؟ نبی اکرم ﷺ نے صلاۃ سے سلام پھیرا اور اسے ڈانٹا ، ابوجہل نے کہا: تجھے خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ مجھ سے زیادہ کسی کے ہمنشیں نہیں ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی {فَلْیَدْعُ نَادِیَہُ سَنَدْعُ الزَّبَانِیَۃَ} ۱؎ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:قسم اللہ کی ! اگر وہ اپنے ہم نشینوں کو بلالیتا تو عذاب پرمتعین اللہ کے فرشتے اسے دھردبوچتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے،۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔