أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب وَمِنْ سُورَةِ وَالضُّحَى صحيح حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ جُنْدَبٍ الْبَجَلِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فَدَمِيَتْ أُصْبُعُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ قَالَ وَأَبْطَأَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ قَدْ وُدِّعَ مُحَمَّدٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ
کتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں سورہ والضحی سے بعض آیات کی تفسیر جندب بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک غار میں تھا، آپ کی انگلی سے (کسی سبب سے) خون نکل آیا، اس موقع پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:' تو صرف ایک انگلی ہے جس سے خون نکل آیا ہے اور یہ سب کچھ جو تجھے پیش آیا ہے اللہ کی راہ میں پیش آیا ہے، راوی کہتے ہیں: آپ کے پاس جبرئیل علیہ السلام کے آنے میں دیر ہوئی تو مشرکین نے کہا: (پروپگینڈہ کیا) کہ محمد (ﷺ) چھوڑدیے گئے، تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے (سورہ والضحیٰ کی ) آیت {مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلَی } ۱؎ نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲- اسے شعبہ اور ثوری نے بھی اسود بن قیس سے روایت کیا ہے ۔