أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب وَمِنْ سُورَةِ الْفَجْرِ ضعيف حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَأَبُو دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عِصَامٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ فَقَالَ هِيَ الصَّلَاةُ بَعْضُهَا شَفْعٌ وَبَعْضُهَا وِتْرٌ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ وَقَدْ رَوَاهُ خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ الْحُدَّانِيُّ عَنْ قَتَادَةَ أَيْضًا
کتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں سورہ فجر سے بعض آیات کی تفسیر عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ سے' شفع' اور' وتر' کے بارے میں پوچھاگیا کہ شفع (جفت) اور وتر(طاق) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا:' اس سے مراد صلاۃ ہے ، بعض صلاتیں شفع (جفت) ہیں اور بعض صلاتیں وتر(طاق) ہیں'۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے،۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں،۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔