جامع الترمذي - حدیث 3339

أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب وَمِنْ سُورَةِ الْبُرُوجِ​ حسن حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمُ الْمَوْعُودُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَالْيَوْمُ الْمَشْهُودُ يَوْمُ عَرَفَةَ وَالشَّاهِدُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَمَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ وَلَا غَرَبَتْ عَلَى يَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْهُ فِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُؤْمِنٌ يَدْعُو اللَّهَ بِخَيْرٍ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ وَلَا يَسْتَعِيذُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْهُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ الْأَسَدِيُّ عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَمُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ يُكْنَى أَبَا عَبْدِ الْعَزِيزِ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مَنْ الْأَئِمَّةِ عَنْهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ وَمُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 3339

کتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں سورہ بروج سے بعض آیات کی تفسیر​ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:' {الْیَوْمُ الْمَوْعُودُ} سے مراد قیامت کا دن ہے، اور {وَالْیَوْمُ الْمَشْہُودُ} سے مراد عرفہ کادن اور(شاہد) سے مراد جمعہ کادن ہے، اورجمعہ کے دن سے افضل کوئی دن نہیں ہے جس پر سوج کا طلوع وغروب ہو اہو، اس دن میں ایک ایسی گھڑی ( ایک ایسا وقت ) ہے کہ اس میں جو کوئی بندہ اپنے رب سے بھلائی کی دعا کرتاہے تو اللہ اس کی دعاقبول کرلیتاہے، اور اس گھڑی میں جوکوئی مومن بندہ کسی چیز سے پناہ چاہتاہے تو اللہ اسے اس سے بچالیتا اور پناہ دے دیتاہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا: وہ کہتے ہیں: ہم سے قرّان بن تمام اسدی نے بیان کیا، اورقرّان نے موسیٰ بن عبیدہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی،۲- موسیٰ بن عبیدہ ربذی کی کنیت ابوعبدالعزیز ہے، ان کے بارے میں ان کے حافظہ کے سلسلے میں یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے کلام کیا ہے، شعبہ ، ثوری اور کئی اور ائمہ نے ان سے روایت کی ہے،۳- یہ حدیث حسن غریب ہے ،۴- ہم اسے صرف موسیٰ بن عبیدہ کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔ موسیٰ بن عبیدہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف مانے جاتے ہیں،انہیں یحییٰ بن سعید وغیرہ نے ضعیف ٹھہرا یاہے۔