جامع الترمذي - حدیث 3207

أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب وَمِنْ سُورَةِ الأَحْزَابِ​ ضعيف حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا مِنْ الْوَحْيِ لَكَتَمَ هَذِهِ الْآيَةَ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَعْنِي بِالْإِسْلَامِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ يَعْنِي بِالْعِتْقِ فَأَعْتَقْتَهُ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ إِلَى قَوْلِهِ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَهَا قَالُوا تَزَوَّجَ حَلِيلَةَ ابْنِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَنَّاهُ وَهُوَ صَغِيرٌ فَلَبِثَ حَتَّى صَارَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ زَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ فُلَانٌ مَوْلَى فُلَانٍ وَفُلَانٌ أَخُو فُلَانٍ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ يَعْنِي أَعْدَلُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ قَدْ رُوِيَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَوْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا مِنْ الْوَحْيِ لَكَتَمَ هَذِهِ الْآيَةَ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ هَذَا الْحَرْفُ لَمْ يُرْوَ بِطُولِهِ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَضَّاحٍ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 3207

کتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر​ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اگر رسول اللہ ﷺ وحی کی کوئی چیز چھپا لینے والے ہوتے تو یہ آیت {وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِی أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِ وَأَنْعَمْتَ عَلَیْہِ} ۱؎ سے لے کر {وَکَانَ أَمْرُ اللَّہِ مَفْعُولاً} تک چھپالیتے، رسول اللہ ﷺ نے جب ان سے (زینب سے) شادی کرلی تو لوگوں نے کہا: آپ نے اپنے (لے پالک) بیٹے کی بیوی سے شادی کرلی، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت {مَا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِکُمْ وَلَکِنْ رَسُولَ اللَّہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ} ۲؎ نازل فرمائی، زید چھوٹے تھے تبھی رسول اللہ ﷺ نے انہیں منہ بولا بیٹا بنالیاتھا، وہ برابر آپ کے پاس رہے یہاں تک کہ جوان ہوگئے،اوران کو زید بن محمد کہاجانے لگا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {ادْعُوہُمْ لآبَائِہِمْ ہُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّہِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَائَہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ فِی الدِّینِ وَمَوَالِیکُمْ } ۳؎ فلاں فلاں کا دوست ہے اور فلاں فلاں کا دینی بھائی ہے ۴؎ ، 'أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّہِ'یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف پر مبنی کا مفہوم یہ ہے کہ پوراانصاف ہے۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔اس سندسے مسروق نے عائشہ سے روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں: اگر نبی اکرمﷺوحی میں سے کچھ چھپانے والے ہوتے تو آپ یہ آیت {وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِی أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِ وَأَنْعَمْتَ عَلَیْہِ}چھپاتے،(اس روایت میں)یہ حدیث کی پوری روایت نہیں کی گئی ہے ۵؎ ۔