جامع الترمذي - حدیث 3145

أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ​ صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَلَمْ يَذْكُرْ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُشَيْمٍ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ قَالَ نَزَلَتْ بِمَكَّةَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ سَبَّهُ الْمُشْرِكُونَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا عَنْ أَصْحَابِكَ بِأَنْ تُسْمِعَهُمْ حَتَّى يَأْخُذُوا عَنْكَ الْقُرْآنَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 3145

کتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں سورہ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر​ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آیت کریمہ: { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ } ۱؎ کے بارے میں کہتے ہیں: یہ مکہ میں نازل ہوئی تھی، رسول اللہ ﷺ جب بلندآواز کے ساتھ قرآن پڑھتے تھے تو مشرکین اسے اورجس نے قرآن نازل کیا ہے اور جو قرآن لے کر آیا ہے سب کو گالیاں دیتے تھے، تو اللہ نے { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ}نازل کرکے صلاۃ میں قرآن بلندآوازسے پڑھنے سے منع فرمادیا تاکہ وہ قرآن ، اللہ تعالیٰ اور جبرئیل علیہ السلام کوگالیاں نہ دیں اور آگے {وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا} نازل فرمایا، یعنی اتنے دھیرے بھی نہ پڑھو کہ آپ کے ساتھی سن نہ سکیں بلکہ یہ ہے کہ وہ آپ سے قرآن سیکھیں( بلکہ ان دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کرو)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔