جامع الترمذي - حدیث 3140

أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ​ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبَي هِنْدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَتْ قُرَيْشٌ لِيَهُودَ أَعْطُونَا شَيْئًا نَسْأَلُ هَذَا الرَّجُلَ فَقَالَ سَلُوهُ عَنْ الرُّوحِ قَالَ فَسَأَلُوهُ عَنْ الرُّوحِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا قَالُوا أُوتِينَا عِلْمًا كَثِيرًا أُوتِينَا التَّوْرَاةَ وَمَنْ أُوتِيَ التَّوْرَاةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا فَأُنْزِلَتْ قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ إِلَى آخِرِ الْآيَةَ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 3140

کتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں سورہ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر​ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: قریش نے یہود سے کہاکہ ہمیں کوئی ایسا سوال دوجسے ہم اس شخص (یعنی محمد ﷺ ) سے پوچھیں ، انہوں نے کہا: اس شخص سے روح کے بارے میں سوال کرو، تو انہوں نے آپ سے روح کے بارے میں پوچھا (روح کی حقیقت کیاہے؟) اس پر اللہ نے آیت {وَیَسْأَلُونَکَ عَنِ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّی وَمَا أُوتِیتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِیلا} ۱؎ ، انہوں نے کہا : ہمیں تو بہت زیادہ علم حاصل ہے، ہمیں تو راۃ ملی ہے، اور جسے توراۃ دی گئی ہو اسے بہت بڑی خیر مل گئی، اس پر آیت {لَوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِکَلِمَاتِ رَبِّی لَنَفِدَ الْبَحْرُ}نازل ہوئی ۲؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔