جامع الترمذي - حدیث 3111

أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب وَمِنْ سُورَةِ هُودٍ​ صحيح حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ هُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَعَلَى مَا نَعْمَلُ عَلَى شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَوْ عَلَى شَيْءٍ لَمْ يُفْرَغْ مِنْهُ قَالَ بَلْ عَلَى شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ وَجَرَتْ بِهِ الْأَقْلَامُ يَا عُمَرُ وَلَكِنْ كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَمْرٍو

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 3111

کتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں سورہ ہودسے بعض آیات کی تفسیر​ عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب آیت { فَمِنْہُمْ شَقِیٌّ وَسَعِیدٌ } ۱؎ نازل ہوئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے نبی! پھر ہم کس چیز کے موافق عمل کریں؟ کیا اس چیز کے موافق عمل کریں جس سے فراغت ہوچکی ہے (یعنی جس کا فیصلہ پہلے ہی کیا جاچکا ہے)؟ یا ہم ایسی چیز پرعمل کریں جس سے ابھی فراغت نہیں ہوئی ہے۔(یعنی اس کا فیصلہ ہمارا عمل دیکھ کرکیا جائے گا) آپ نے فرمایا:' عمر! ہم اسی چیز کے موافق عمل کرتے ہیں جس سے فراغت ہوچکی ہے۔ (اور ہمارے عمل سے پہلے) وہ چیز ضبط تحریر میں آچکی ہے۲؎ ، لیکن بات صرف اتنی ہے کہ ہرشخص کے لیے وہی آسان ہے جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے ۳؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے،۲- ہم اسے صرف عبدالملک بن عمرو کی حدیث سے جانتے ہیں۔