أَبْوَابُ الِاسْتِئْذَانِ وَالْآدَابِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ صحيح حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ زُرْعَةَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ جَرْهَدٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ جَدِّهِ جَرْهَدٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَرْهَدٍ فِي الْمَسْجِدِ وَقَدْ انْكَشَفَ فَخِذُهُ فَقَال إِنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ مَا أَرَى إِسْنَادَهُ بِمُتَّصِلٍ
کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب واحکام ران کے ستر(شرمگاہ) میں داخل ہونے کابیان جرہد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مسجد میں جرہد کے پاس(یعنی میرے پاس سے) سے گزرے (اس وقت) ان کی ران کھلی ہوئی تھی تو آپ نے فرمایا:' ران بھی ستر (چھپانے کی چیز )ہے'۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن ہے،۲- میرے نزدیک اس کی سندمتصل نہیں ہے۔