أَبْوَابُ الِاسْتِئْذَانِ وَالْآدَابِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِي نَظْرَةِ الْمُفَاجَأَةِ حسن حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَفَعَهُ قَالَ يَا عَلِيُّ لَا تُتْبِعْ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ
کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب واحکام ( غیر محرم پر) اچانک نظرپڑجانے کابیان بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:'علی! نظر کے بعد نظر نہ اٹھاؤ، کیوں کہ تمہارے لیے پہلی نظر (معاف) ہے اور دوسری (معاف)نہیں ہے ' ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں۔