أَبْوَابُ الِاسْتِئْذَانِ وَالْآدَابِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِي الاتِّكَاءِ صحيح حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكُوفِيُّ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ عَلَى يَسَارِهِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ وَلَمْ يَذْكُرْ عَلَى يَسَارِهِ
کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب واحکام تکیہ اورٹیک لگاکر بیٹھنے کا بیان جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی بائیں جانب تکیہ پرٹیک لگاکر بیٹھے ہوئے دیکھا۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،۲- اس حدیث کوکئی اور نے بطریق :'اسرائیل، عن سماک، عن جابربن سمرۃ' روایت کی ہے،(اس میں ہے) وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کوتکیہ پرٹیک لگائے ہوئے دیکھا، لیکن انہوں نے 'علی یسارہ' اپنی بائیں جانب تکیہ رکھنے کا ذکر نہیں کیا ۔