جامع الترمذي - حدیث 265

أَبْوَابُ الصَّلاَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِيمَنْ لاَ يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ​ صحيح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ الْبَدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ فِيهَا الرَّجُلُ يَعْنِي صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ وَأَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَرِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَرَوْنَ أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ و قَالَ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ مَنْ لَمْ يُقِمْ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فَصَلَاتُهُ فَاسِدَةٌ لِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَأَبُو مَعْمَرٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ وَأَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ الْبَدْرِيُّ اسْمُهُ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 265

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے اس کے حکم کا بیان​ ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:' اس شخص کی صلاۃ کافی نہ ہوگی جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے ' ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابومسعود انصاری کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی بن شیبان ، انس ، ابوہریرہ اور رفاعہ زرقی رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام اوران کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی رکھے ،۴- شافعی ، احمد، اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جس نے رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں رکھی تو اس کی صلاۃ فاسد ہے، اس لیے کہ نبی اکرمﷺ کی حدیث ہے: 'اس شخص کی صلاۃ کافی نہ ہو گی جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے۔
تشریح : ۱؎ : اس سے معلوم ہواکہ صلاۃمیں طمانینت اورتعدیل ارکان واجب ہے، اورجولوگ اس کے وجوب کے قائل نہیں ہیں وہ کہتے ہیں اس سے نص پر زیادتی لازم آئے گی اس لیے کہ قرآن مجیدمیں مطلق سجدہ کاحکم ہے اس میں طمانینت داخل نہیں یہ زیادتی جائزنہیں،اس کاجواب یہ دیاجاتاہے کہ یہ زیادتی نہیں بلکہ سجدہ کے معنی کی وضاحت ہے کہ اس سے مرادسجدہ ٔلغوی نہیں بلکہ سجدہ ٔ شرعی ہے جس کے مفہوم میں طمانینت بھی داخل ہے۔ ۱؎ : اس سے معلوم ہواکہ صلاۃمیں طمانینت اورتعدیل ارکان واجب ہے، اورجولوگ اس کے وجوب کے قائل نہیں ہیں وہ کہتے ہیں اس سے نص پر زیادتی لازم آئے گی اس لیے کہ قرآن مجیدمیں مطلق سجدہ کاحکم ہے اس میں طمانینت داخل نہیں یہ زیادتی جائزنہیں،اس کاجواب یہ دیاجاتاہے کہ یہ زیادتی نہیں بلکہ سجدہ کے معنی کی وضاحت ہے کہ اس سے مرادسجدہ ٔلغوی نہیں بلکہ سجدہ ٔ شرعی ہے جس کے مفہوم میں طمانینت بھی داخل ہے۔