جامع الترمذي - حدیث 2642

أَبْوَابُ الْإِيمَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مَا جَاءَ فِي افْتِرَاقِ هَذِهِ الأُمَّةِ صحيح حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ قَال سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ اهْتَدَى وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ فَلِذَلِكَ أَقُولُ جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 2642

کتاب: ایمان واسلام کے بیان میں امت محمدیہ کی فرقہ بندی کابیان​ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کوفرماتے ہوئے سنا:'اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی مخلوق کوتاریکی میں پیداکیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا (یعنی اپنے نور کاپرتو) توجس پریہ نور پڑ گیا وہ ہدایت یاب ہوگیااور جس پر نور نہ پڑا (تجاوز کرگیا) تو وہ گمراہ ہوگیا، اسی لیے میں کہتاہوں کہ اللہ کے علم پر(تقدیرکا) قلم خشک ہوچکاہے' ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔