جامع الترمذي - حدیث 2568

أَبْوَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ باب احادیث فی صفۃ الذین یحبہم اللہ ضعيف حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ قَال سَمِعْتُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ يَرْفَعُهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمْ اللَّهُ وَثَلَاثَةٌ يُبْغِضُهُمْ اللَّهُ فَأَمَّا الَّذِينَ يُحِبُّهُمْ اللَّهُ فَرَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَمَنَعُوهُ فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْقَابِهِمْ فَأَعْطَاهُ سِرًّا لَا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلَّا اللَّهُ وَالَّذِي أَعْطَاهُ وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يُعْدَلُ بِهِ نَزَلُوا فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ فَقَامَ أَحَدُهُمْ يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَهُزِمُوا وَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يُفْتَحَ لَهُ وَالثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمْ اللَّهُ الشَّيْخُ الزَّانِي وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ وَالْغَنِيُّ الظَّلُومُ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ عَنْ شُعْبَةَ نَحْوَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَهَكَذَا رَوَى شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ نَحْوَ هَذَا وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 2568

کتاب: جنت کاوصف اور اس کی نعمتوں کاتذکرہ ان تین کی صفات کا بیان جن سے اللہ محبت کرتا ہے ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:' تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتاہے،اور تین قسم کے لوگوں سے نفرت ، جن لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتاہے وہ یہ ہیں: ایک وہ آدمی جو کسی قوم کے پاس جائے اور ان سے اللہ کا واسطہ دے کر مانگے وہ اپنے اور اس قوم کے درمیان پائے جانے والے کسی رشتے کا واسطہ دے کرنہ مانگے اوروہ لوگ اسے کچھ نہ دیں، پھر ان میں سے ایک آدمی پیچھے پھرے اور اسے چپکے سے لا کر کچھ دے، اس کے عطیہ کو اللہ تعالیٰ اور جس کو دیا ہے اس کے سواکوئی نہ جانے۔دوسرے وہ لوگ جو رات کو چلیں یہاں تک کہ جب ان کو نیند ان چیزوں سے پیاری ہوجائے جو نیند کے برابر ہیں تو سواری سے اتریں اور سر رکھ کر سوجائیں اوران میں کا ایک آدمی کھڑا ہو کر میری خوشامد کرنے اور میری آیتوں کی تلاوت کرنے لگے، تیسرا وہ آدمی جو کسی سریہ میں ہو اور دشمن سے مقابلہ ہو تو اس کے ساتھی ہارجائیں پھربھی وہ سینہ سپر ہوکر آگے بڑھے یہاں تک کہ مارا جائے یا فتح حاصل ہوجائے۔ جن تین لوگوں سے اللہ تعالیٰ نفرت کرتاہے وہ یہ ہیں: وہ بوڑھا جوزناکارہو ، وہ فقیر جو تکبرکرنے والاہو اور مالدارجو دوسروں پر ظلم ڈھائے'۔اس سند سے بھی ابوذر رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اسی طرح شیبان نے منصورکے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، یہ ابوبکر بن عیاش کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔