جامع الترمذي - حدیث 1984

أَبْوَابُ البِرِّ وَالصِّلَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الْمَعْرُوفِ​ حسن حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا تُرَى ظُهُورُهَا مِنْ بُطُونِهَا وَبُطُونُهَا مِنْ ظُهُورِهَا فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ لِمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَامَ وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَأَدَامَ الصِّيَامَ وَصَلَّى لِلَّهِ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَقَ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَقَ هَذَا مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَهُوَ كُوفِيٌّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَقَ الْقُرَشِيُّ مَدَنِيُّ وَهُوَ أَثْبَتُ مِنْ هَذَا وَكِلَاهُمَا كَانَا فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 1984

کتاب: نیکی اورصلہ رحمی کے بیان میں معروف (بھلی بات) کہنے کی فضیلت کابیان​ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:' جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کابیرونی حصہ اندرسے اوراندورنی حصہ باہر سے نظر آئے گا، (یہ سن کر) ایک اعرابی نے کھڑے ہوکرعرض کیا: اللہ کے رسول! کس کے لیے ہیں؟' آپ نے فرمایا:' جو اچھی طرح بات کرے ، کھانا کھلائے ، خوب صوم رکھے اوراللہ کی رضا کے لیے رات میں صلاۃ پڑھے جب کہ لوگ سوئے ہوں' ۱؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- ہم اسے صرف عبدالرحمن بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، اسحاق بن عبدالرحمن کے حافظے کے تعلق سے بعض محدثین نے کلام کیا ہے ، یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں، ۳-عبدالرحمن بن اسحاق نام کے ایک دوسرے راوی ہیں، وہ قرشی اورمدینہ کے رہنے والے ہیں، یہ ان سے اثبت ہیں،اور دونوں کے دونوں ہم عصرہیں۔
تشریح : ۱؎ : خوش کلامی ، کثرت سے صوم رکھنا، اور رات میں جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں اللہ کے لیے صلاۃ پڑھنی یہ ایسے اعمال ہیں جو جنت کے بالاخانوں تک پہنچانے والے ہیں، شرط یہ ہے کہ یہ سب اعمال ریاکاری اور دکھاوے سے خالی ہوں۔ نوٹ:(سندمیں عبد الرحمن بن اسحاق واسطی سخت ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے) ۱؎ : خوش کلامی ، کثرت سے صوم رکھنا، اور رات میں جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں اللہ کے لیے صلاۃ پڑھنی یہ ایسے اعمال ہیں جو جنت کے بالاخانوں تک پہنچانے والے ہیں، شرط یہ ہے کہ یہ سب اعمال ریاکاری اور دکھاوے سے خالی ہوں۔ نوٹ:(سندمیں عبد الرحمن بن اسحاق واسطی سخت ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے)