جامع الترمذي - حدیث 1865

أَبْوَابُ الْأَشْرِبَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ​ حسن حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ بَكْرِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدٍ وَعَائِشَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَابْنِ عُمَرَ وَخَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 1865

کتاب: مشروبات( پینے والی چیزوں)کے احکام و مسائل جس چیز کی زیادہ مقدارنشہ پیدا کردے اس کی تھوڑی مقداربھی حرام ہے​ جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:' جس چیز کی زیادہ مقدارنشہ پیدا کردے تو اس کی تھوڑی سی مقداربھی حرام ہے ' ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث جابرکی روایت سے حسن غریب ہے ،۲- اس باب میں سعد ، عائشہ ، عبداللہ بن عمرو، ابن عمراورخوات بن جبیر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
تشریح : ۱؎ : اس حدیث سے معلوم ہواکہ جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو تو اس کی تھوڑی سی مقدار بھی حرام ہے، اس سے ان لوگوں کے قول کی تردید ہوجاتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ خمر تھوڑی ہویا زیادہ حرام ہے، اس کے علاوہ دیگر نشہ آور اشیاء کی صرف وہ مقدار حرام ہے جس سے نشہ پیدا ہو اور جس مقدار میں نشہ نہ پیداہو وہ حرام نہیں ہے۔ ۱؎ : اس حدیث سے معلوم ہواکہ جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو تو اس کی تھوڑی سی مقدار بھی حرام ہے، اس سے ان لوگوں کے قول کی تردید ہوجاتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ خمر تھوڑی ہویا زیادہ حرام ہے، اس کے علاوہ دیگر نشہ آور اشیاء کی صرف وہ مقدار حرام ہے جس سے نشہ پیدا ہو اور جس مقدار میں نشہ نہ پیداہو وہ حرام نہیں ہے۔