جامع الترمذي - حدیث 1856

أَبْوَابُ الْأَطْعِمَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْعَشَاءِ​ ضعيف حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَلَّاقٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَشَّوْا وَلَوْ بِكَفٍّ مِنْ حَشَفٍ فَإِنَّ تَرْكَ الْعَشَاءِ مَهْرَمَةٌ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَعَنْبَسَةُ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ عَلَّاقٍ مَجْهُولٌ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 1856

کتاب: کھانے کے احکام ومسائل رات کے کھانے کی فضیلت کا بیان​ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:' رات کا کھانا کھاؤگرچہ ایک مٹھی ردی کھجورہی کیوں نہ ہو ، اس لیے کہ رات کا کھانا چھوڑنا بڑھاپے کا سبب ہے '۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث منکر ہے،۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، عنبسہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں اور عبد الملک بن علاق مجہول ہیں۔
تشریح : نوٹ:(سند میں عنبسہ متروک الحدیث راوی ہے) نوٹ:(سند میں عنبسہ متروک الحدیث راوی ہے)