جامع الترمذي - حدیث 182

أَبْوَابُ الصَّلاَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْوُسْطَى أَنَّهَا الْعَصْرُ صحيح حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثُ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَمُرَةَ فِي صَلَاةِ الْوُسْطَى حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ و قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَعَائِشَةُ صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الظُّهْرِ و قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ عُمَرَ صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الصُّبْحِ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ قَالَ قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ سَلِ الْحَسَنَ مِمَّنْ سَمِعَ حَدِيثَ الْعَقِيقَةِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ سَمِعْتُهُ مِنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ أَبُو عِيسَى و أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ عَنْ قُرَيْشِ بْنِ أَنَسٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ عَلِيٌّ وَسَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْ سَمُرَةَ صَحِيحٌ وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 182

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل صلاۃِ وسطیٰ ہی صلاۃِ عصر ہے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: 'صلاۃ وسطیٰ عصر کی صلاۃ ہے' ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- صلاۃ وسطیٰ کے سلسلہ میں سمرہ کی حدیث حسن ہے،۲- اس باب میں علی، عبداللہ بن مسعود ، زید بن ثابت ، عائشہ، حفصہ ، ابوہریرہ اور ابوہاشم بن عقبہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ علی بن عبداللہ(ابن المدینی) کاکہناہے : حسن بصری کی حدیث جسے انہوں نے سمرہ بن جندب سے روایت کیا ہے،صحیح حدیث ہے ،جسے انہوں نے سمرۃ سے سنا ہے، ۴- صحابہ کرام اوران کے علاوہ دیگر لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے،زید بن ثابت اور عائشہ رضی اللہ عنہا کاکہناہے کہ صلاۃ وسطیٰ ظہرکی صلاۃ ہے،ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ صلاۃِ وسطیٰ صبح کی صلاۃ (یعنی فجر) ہے ۲؎ ، ۵- وہ حبیب بن شہید کہتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن سیرین نے کہا کہ تم حسن بصری سے پوچھوکہ انہوں نے عقیقہ کی حدیث کس سے سنی ہے؟ تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہاکہ میں نے اسے سمرہ بن جندب سے سناہے، ۶- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ علی ابن المدینی نے کہاہے کہ سمرہ رضی اللہ عنہ سے حسن کا سماع صحیح ہے اور انہوں نے اسی حدیث سے دلیل پکڑی ہے۔
تشریح : ۱؎ : صلاۃ وسطیٰ سے کون سی صلاۃ مراد ہے اس بارے میں مختلف حدیثیں وارد ہیں صحیح قول یہی ہے کہ اس سے مراد صلاۃ عصرہے یہی اکثرصحابہ اور تابعین کامذہب ہے، امام ابوحنیفہ ، امام احمد بھی اسی طرف گئے ہیں ۔ ۲؎ : امام مالک اورامام شافعی کا مشہورمذہب یہی ہے ۔ نوٹ:(سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح لغیرہ ہے، حسن بصری کے سمرہ رضی اللہ عنہ سے سماع میں اختلاف ہے، نیز قتادہ اورحسن بصریمدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے ) ۱؎ : صلاۃ وسطیٰ سے کون سی صلاۃ مراد ہے اس بارے میں مختلف حدیثیں وارد ہیں صحیح قول یہی ہے کہ اس سے مراد صلاۃ عصرہے یہی اکثرصحابہ اور تابعین کامذہب ہے، امام ابوحنیفہ ، امام احمد بھی اسی طرف گئے ہیں ۔ ۲؎ : امام مالک اورامام شافعی کا مشہورمذہب یہی ہے ۔ نوٹ:(سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح لغیرہ ہے، حسن بصری کے سمرہ رضی اللہ عنہ سے سماع میں اختلاف ہے، نیز قتادہ اورحسن بصریمدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے )