جامع الترمذي - حدیث 180

أَبْوَابُ الصَّلاَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَنْسَى الصَّلاَةَ​ صحيح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ إِنْ صَلَّيْتُهَا قَالَ فَنَزَلْنَا بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَوَضَّأْنَا فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 180

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل آدمی صلاۃ بھول جائے تو کیا کرے؟​ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خندق کے روز کفارقریش کو برا بھلاکہتے ہوئے کہاکہ اللہ کے رسول! میں عصرنہیں پڑھ سکا یہاں تک کہ سورج ڈوبنے کے قریب ہوگیا،تو رسول اللہﷺ نے فرمایا:'اللہ کی قسم ! میں نے اُسے(اب بھی)نہیں پڑھی ہے'، وہ کہتے ہیں: پھر ہم وادی بطحان میں اترے تو رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا اور ہم نے بھی وضو کیا، پھر رسول اللہﷺ نے سورج ڈوب جانے کے بعد پہلے عصرپڑھی پھر اس کے بعد مغرب پڑھی۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ۱؎ ۔
تشریح : ۱؎ : عمر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں مذکورواقعہ ابن مسعودوالے واقعہ کے علاوہ دوسرا واقعہ ہے ، یہاں صرف عصرکی قضاکا واقعہ ہے اوروہاں ظہرسے لے کر مغرب تک کی قضاء پھرعشاء کے وقت میں سب کی قضا ء کا واقعہ ہے جو دوسرے دن کا ہے ، غزوئہ خندق کئی دن تک ہوئی تھی۔ ۱؎ : عمر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں مذکورواقعہ ابن مسعودوالے واقعہ کے علاوہ دوسرا واقعہ ہے ، یہاں صرف عصرکی قضاکا واقعہ ہے اوروہاں ظہرسے لے کر مغرب تک کی قضاء پھرعشاء کے وقت میں سب کی قضا ء کا واقعہ ہے جو دوسرے دن کا ہے ، غزوئہ خندق کئی دن تک ہوئی تھی۔