جامع الترمذي - حدیث 1791

أَبْوَابُ الْأَطْعِمَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الضَّبُعِ​ صحيح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرٍ الضَّبُعُ صَيْدٌ هِيَ قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ آكُلُهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ لَهُ أَقَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا وَلَمْ يَرَوْا بِأَكْلِ الضَّبُعِ بَأْسًا وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ وَرُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ فِي كَرَاهِيَةِ أَكْلِ الضَّبُعِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَكْلَ الضَّبُعِ وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَرَوَى جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عُمَرَ قَوْلَهُ وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَصَحُّ وَابْنُ أَبِي عَمَّارٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ الْمَكِّيُّ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 1791

کتاب: کھانے کے احکام ومسائل لکڑبگھاکھانے کا بیان​ ابن ابی عمار کہتے ہیں: میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا لکڑبگھابھی شکار ہے ؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے پوچھا: اسے کھا سکتا ہوں؟ کہا: ہاں، میں نے پوچھا: کیا یہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ؟ کہا: ہاں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲- یحییٰ قطان کہتے ہیں: جریربن حازم نے یہ حدیث اس سند سے روایت کی ہے: عبد اللہ بن عبیدبن عمیرنے ابن ابی عمارسے، ابن ابی عمار نے جابرسے، جابرنے عمر رضی اللہ عنہ کے قول سے روایت کی ہے، ابن جریج کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ۳- بعض اہل علم کا یہی مذہب ہے ، وہ لوگ لکڑبگھاکھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں۔احمداوراسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ،۴- نبی اکرمﷺ سے لکڑبگھاکھانے کی کراہت کے سلسلے میں ایک حدیث آئی ہے، لیکن اس کی سندقوی نہیں ہے،۵- بعض اہل علم نے بجوکھانے کو مکروہ سمجھاہے ، ابن مبارک کابھی یہی قول ہے۔