جامع الترمذي - حدیث 1755

أَبْوَابُ اللِّبَاسِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِي الْجُمَّةِ وَاتِّخَاذِ الشَّعَرِ​ حسن حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَكَانَ لَهُ شَعْرٌ فَوْقَ الْجُمَّةِ وَدُونَ الْوَفْرَةِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ هَذَا الْحَرْفَ وَكَانَ لَهُ شَعْرٌ فَوْقَ الْجُمَّةِ وَدُونَ الْوَفْرَةِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ثِقَةٌ كَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُوَثِّقُهُ وَيَأْمُرُ بِالْكِتَابَةِ عَنْهُ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 1755

کتاب: لباس کے احکام ومسائل کندھوں تک لٹکنے والے بالوں کا بیان​ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھی ، آپ کے بال جمہ سے چھوٹے اوروفرہ سے بڑے تھے ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ۲- دوسری سندوں سے یہ حدیث عائشہ سے یوں مروی ہے، کہتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھی ، راویوں نے اس حدیث میں یہ جملہ نہیں بیان کیا ہے ، 'وکان لہ شعر فوق الجمۃ ودون الوفرۃ ' ۳- عبدالرحمن بن ابی زنادثقہ ہیں، مالک بن انس ان کی توثیق کرتے تھے اور ان کی روایت لکھنے کا حکم دیتے تھے۔
تشریح : ۱؎ : جمہ: ایسے بال جو کندھوں تک لٹکتے ہیں، اور ' وفرہ' کان کی لوتک لٹکنے والے بال کو کہتے ہیں،بال تین طرح کے ہوتے ہیں: جمہ، وفرہ، اور لمہ ، لمۃ : ایسے بال کوکہتے ہیں جو کان کی لوسے نیچے اور کندھوں سے اوپر ہوتاہے، (یعنی وفرہ سے بڑے اور جمعہ سے جھوٹے) بعض احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کے بال جمہ یعنی کندھوں تک لٹکنے والے تھے، ممکن ہے کبھی 'جمہ' رکھتے تھے اور کبھی' لمہ' نیز کبھی 'وفرہ' بھی رکھتے تھے۔ ۱؎ : جمہ: ایسے بال جو کندھوں تک لٹکتے ہیں، اور ' وفرہ' کان کی لوتک لٹکنے والے بال کو کہتے ہیں،بال تین طرح کے ہوتے ہیں: جمہ، وفرہ، اور لمہ ، لمۃ : ایسے بال کوکہتے ہیں جو کان کی لوسے نیچے اور کندھوں سے اوپر ہوتاہے، (یعنی وفرہ سے بڑے اور جمعہ سے جھوٹے) بعض احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کے بال جمہ یعنی کندھوں تک لٹکنے والے تھے، ممکن ہے کبھی 'جمہ' رکھتے تھے اور کبھی' لمہ' نیز کبھی 'وفرہ' بھی رکھتے تھے۔