جامع الترمذي - حدیث 1711

أَبْوَابُ الْجِهَادِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِي حَدِّ بُلُوغِ الرَّجُلِ وَمَتَى يُفْرَضُ لَهُ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَيْشٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَلَمْ يَقْبَلْنِي ثُمَّ عُرِضْتُ عَلَيْهِ مِنْ قَابِلٍ فِي جَيْشٍ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَقَبِلَنِي قَالَ نَافِعٌ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ هَذَا حَدُّ مَا بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ثُمَّ كَتَبَ أَنْ يُفْرَضَ لِمَنْ بَلَغَ الْخَمْسَ عَشْرَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ هَذَا حَدُّ مَا بَيْنَ الذُّرِّيَّةِ وَالْمُقَاتِلَةِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ كَتَبَ أَنْ يُفْرَضَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ إِسْحَقَ بْنِ يُوسُفَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 1711

کتاب: جہاد کے احکام ومسائل حدبلوغت کاذکر اور غنیمت سے اس کو کب حصہ دیا جائے گا اس کا بیان​ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ایک لشکرمیں مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا ، میں چودہ سال کا تھا، تو آپ نے مجھے (جہادمیں لڑنے کے لیے) قبول نہیں کیا ، پھر مجھے آپ کے سامنے آئندہ سال ایک لشکرمیں پیش کیا گیا اور میں پندرہ سال کا تھا، توآپ نے مجھے (لشکرمیں) قبول کرلیا ، نافع کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو عمربن عبدالعزیز سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: چھوٹے اوربڑے کے درمیان یہی حدہے ، پھر انہوں نے فرمان جاری کیا کہ جو پندرہ سال کا ہوجائے اسے مال غنیمت سے حصہ دیاجائے ۱؎ ۔ اس سندسے عمرسے اسی جیسی اسی معنی کی حدیث مروی ہے اور اس میں ہے کہ عمربن عبدالعزیزنے کہا: یہ چھوٹے اورلڑنے والے کے درمیان حدہے ، انہوں نے یہ نہیں بیان کیا کہ عمربن عبدالعزیزنے مال غنیمت میں سے حصہ متعین کرنے کا فرمان جاری کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اسحاق بن یوسف کی حدیث جوسفیان ثوری کی روایت سے آئی ہے ، وہ حسن صحیح غریب ہے۔
تشریح : ۱؎ : لڑکا یا لڑکی کی عمر سن ہجری سے جب پندرہ سال کی ہوجائے تو وہ بلوغت کی حدکو پہنچ جاتا ہے، اسی طرح سے زیرناف بال نکل آنا اوراحتلام کا ہونا بھی بلوغت کی علامات میں سے ہے، اور لڑکی کو حیض آجائے تو یہ بھی بلوغت کی نشانی ہے۔ ۱؎ : لڑکا یا لڑکی کی عمر سن ہجری سے جب پندرہ سال کی ہوجائے تو وہ بلوغت کی حدکو پہنچ جاتا ہے، اسی طرح سے زیرناف بال نکل آنا اوراحتلام کا ہونا بھی بلوغت کی علامات میں سے ہے، اور لڑکی کو حیض آجائے تو یہ بھی بلوغت کی نشانی ہے۔